“Some new Majnun must be frantically stamping his feet in the prison cell; never before had the clatter of fetters sounded quite like this.”
قید خانے میں پاؤں پٹکتا ہوا ضرور کوئی نیا مجنوں آیا ہے، کیونکہ زنجیروں کے کھڑکنے کی ایسی آواز پہلے کبھی نہیں آتی تھی۔
ذرا تصور کیجیے کہ قید خانے سے زنجیروں کے چھنکنے کی ایسی پُرجوش صدا آ رہی ہے جیسے کوئی ماتم کرنے کے بجائے والہانہ انداز میں رقص کر رہا ہو۔ شاعر کو گمان ہوتا ہے کہ عشق کے اس زندان میں ضرور کوئی نیا مجنوں وارد ہوا ہے جس کے نووارد جنون نے زنجیروں کی جھنکار کو رقص کی تھاپ بنا دیا ہے۔ یہ شعر بتاتا ہے کہ سچا عاشق پابندیوں اور تکالیف سے گھبرانے کے بجائے اپنی دیوانگی کو ہی جشن بنا لیتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
