“Why does the beloved's gaze turn away in neglect, O heart? / Never before was it so heedless of your plight.”
اے دل، اب محبوب کی نظر میں یہ بے رخی کیوں ہے؟ وہ تیرے حال سے پہلے کبھی اس قدر بے خبر تو نہ تھی۔
اس شعر میں عاشق اپنے دل سے مخاطب ہو کر محبوب کے اچانک بدلے ہوئے رویے اور تغافل پر حیران بھی ہے اور دکھی بھی۔ محبوب کی جو نگاہ کبھی عاشق کے حالِ دل اور اس کی تڑپ سے پل بھر کے لیے بھی غافل نہیں رہتی تھی، آج یوں بے پروا ہو گئی ہے جیسے کچھ جانتی ہی نہ ہو۔ دراصل یہ درد محض بے رخی کا نہیں، بلکہ اس حیرت اور دکھ کا ہے کہ اپنا بن کر سمجھنے والی نظر آخر اتنی بیگانہ کیسے ہو گئی۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
