“Who has robbed you of your calm and peace today? / O heart, never before were you restless in this way.”
آج تیرا صبر اور سکون کون چھین کر لے گیا ہے؟ اے دل، تجھے پہلے کبھی ایسی بے چینی تو نہ تھی۔
شاعر یہاں اپنے ہی دل سے ایک غمخوار دوست کی طرح مخاطب ہے اور اس کی غیر معمولی بے چینی پر ششدر رہ گیا ہے۔ دل نے پہلے بھی محبت کے روگ سہے ہیں، مگر آج کا اضطراب اتنا شدید ہے گویا کوئی اس کا سارا صبر اور چین اچانک لوٹ کر لے گیا ہو۔ یہ شعر عشق کے اس سحر انگیز اور بے بس کر دینے والے عالم کی خوبصورت عکاسی کرتا ہے جہاں انسان کے اپنے ہی دل پر اس کا بس نہیں چلتا۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
