“What is the reason that you turn on Zafar every time? / O houri-faced beloved, your nature was never such before.”
کیا وجہ ہے کہ تم ہر بار ظفر سے ناراض ہو جاتے ہو؟ اے حور جیسی خوبصورت خصلت والے محبوب، تمہاری عادت پہلے کبھی ایسی تو نہ تھی۔
اس شعر میں ظفر اپنے محبوب سے بڑی نزاکت کے ساتھ ایک میٹھا سا شکوہ کر رہے ہیں کہ وہ آخر ہر بات پر ان سے خفا کیوں ہو جاتا ہے۔ وہ یاد دلاتے ہیں کہ حور جیسی دلکش اور پاکیزہ صفت رکھنے والی کی فطرت پہلے تو اتنی بے رخی والی نہیں تھی، پھر یہ اچانک تبدیلی کیسی؟ دل کے درد کا اظہار کرتے ہوئے بھی وہ محبوب کے حسن اور دلکشی کا اعتراف کرتے ہیں، جو اس گلے کو اور بھی پرلطف بنا دیتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
