“Such anguish I endured this time upon love's arduous path; the destination never had proved so harsh before.”
اس بار محبت کی راہ میں جو تکلیف اٹھائی ہے، ہماری منزل پہلے کبھی اتنی سخت اور دشوار نہیں ہوئی تھی۔
اس شعر میں شاعر محبت کے اس غیر معمولی دکھ کا ذکر کر رہا ہے جس نے اسے اندر تک جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ یوں تو عشق کی راہوں میں رنج و الم عام سی بات ہیں، لیکن اس بار منزل کی سختی اور سفر کی تلخی اتنی گہری ہے کہ عاشق خود حیران رہ گیا ہے۔ یہ دراصل دل کی اس تھکن اور اداسی کا نوحہ ہے جہاں پہنچ کر سکون کی امید تو تھی، مگر حصے میں صرف بے بسی اور اذیت ہی آئی۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
