غزل
اپنے پہلو سے وہ غیروں کو اٹھا ہی نہ سکے
اپنے پہلو سے وہ غیروں کو اٹھا ہی نہ سکے
یہ غزل ان کہے درد، محبوب کی بے رخی اور عاشق کی بے بسی کی پردرد عکاسی کرتی ہے۔ شاعر اس المیے کو بیان کرتا ہے کہ محبوب کی غیروں سے قربت کے باعث وہ اپنا حالِ دل نہ سنا سکا، اور محبوب کی اس پراسرار رفعت کا ذکر کرتا ہے جو فکر و ادراک کی تمام تر وسعتوں سے ماورا رہی۔
Source: rekhta · HI
نغمہ سنیں
ابھی نغمہ نہیں
1
अपने पहलू से वो ग़ैरों को उठा ही न सके
उन को हम क़िस्सा-ए-ग़म अपना सुना ही न सके
اپنے پہلو سے وہ غیروں کو اٹھا ہی نہ سکے
ان کو ہم قصۂ غم اپنا سنا ہی نہ سکے
وہ اپنے پہلو سے غیروں کو ہٹا ہی نہ سکے، اور ہم انہیں اپنے دکھ کا قصہ سنا ہی نہ سکے۔
2
ज़ेहन मेरा वो क़यामत कि दो-आलम पे मुहीत
आप ऐसे कि मिरे ज़ेहन में आ ही न सके
ذہن میرا وہ قیامت کہ دو عالم پہ محیط
آپ ایسے کہ مرے ذہن میں آ ہی نہ سکے
میرا ذہن اتنا وسیع ہے کہ دونوں جہانوں پر محیط ہے، مگر آپ ایسے ہیں کہ میری سوچ میں سما ہی نہ سکے۔
3
देख लेते जो उन्हें तो मुझे रखते म'अज़ूर
शैख़-साहिब मगर उस बज़्म में जा ही न सके
دیکھ لیتے جو انہیں تو مجھے رکھتے معذور
شیخ صاحب مگر اس بزم میں جا ہی نہ سکے
اگر شیخ صاحب میرے محبوب کو دیکھ لیتے تو وہ میری بے بسی اور حالت کو معذور سمجھتے، لیکن وہ اس محفل میں جا ہی نہ سکے۔
4
अक़्ल महँगी है बहुत इश्क़ ख़िलाफ़-ए-तहज़ीब
दिल को इस अहद में हम काम में ला ही न सके
عقل مہنگی ہے بہت عشق خلاف تہذیب
دل کو اس عہد میں ہم کام میں لا ہی نہ سکے
عقل بہت مہنگی ہے اور عشق تہذیب کے خلاف سمجھا جاتا ہے، اس لیے اس دور میں ہم دل کو کسی کام میں لا ہی نہ سکے۔
5
हम तो ख़ुद चाहते थे चैन से बैठें कोई दम
आप की याद मगर दिल से भुला ही न सके
ہم تو خود چاہتے تھے چین سے بیٹھیں کوئی دم
آپ کی یاد مگر دل سے بھلا ہی نہ سکے
ہم تو خود چاہتے تھے کہ کچھ دیر چین و سکون سے بیٹھیں، لیکن آپ کی یاد کو اپنے دل سے بھلا ہی نہ سکے۔
6
इश्क़ कामिल है उसी का कि पतंगों की तरह
ताब नज़्ज़ारा-ए-माशूक़ की ला ही न सके
عشق کامل ہے اسی کا کہ پتنگوں کی طرح
تاب نظارۂ معشوق کی لا ہی نہ سکے
کامل اور سچی محبت صرف اسی کی ہے جو پروانے کی طرح اپنے معشوق کے دیدار کی تاب نہ لا سکے۔
7
दाम-ए-हस्ती की भी तरकीब अजब रक्खी है
जो फँसे उस में वो फिर जान बचा ही न सके
دام ہستی کی بھی ترکیب عجب رکھی ہے
جو پھنسے اس میں وہ پھر جان بچا ہی نہ سکے
زندگی کے جال کی بناوٹ بھی عجیب رکھی گئی ہے کہ جو ایک بار اس میں پھنس جائے، وہ پھر اپنی جان نہیں بچا سکتا۔
8
मज़हर-ए-जल्वा-ए-जानाँ है हर इक शय 'अकबर'
बे-अदब आँख किसी सम्त उठा ही न सके
مظہر جلوۂ جاناں ہے ہر اک شے اکبرؔ
بے ادب آنکھ کسی سمت اٹھا ہی نہ سکے
اے اکبرؔ، ہر ایک چیز محبوب کے جلوے کا مظہر ہے، اس لیے کوئی بے ادب آنکھ کسی بھی طرف اٹھ ہی نہیں سکتی۔
9
ऐसी मंतिक़ से तो दीवानगी बेहतर 'अकबर'
कि जो ख़ालिक़ की तरफ़ दिल को झुका ही न सके
ایسی منطق سے تو دیوانگی بہتر اکبرؔ
کہ جو خالق کی طرف دل کو جھکا ہی نہ سکے
اکبر کہتے ہیں کہ ایسی منطق یا عقل سے تو پاگل پن بہتر ہے، جو دل کو اپنے خالق کے آگے جھکا ہی نہ سکے۔
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
