“Far better than such logic is sheer madness, Akbar, that cannot even bow the heart toward its Creator.”
اکبر کہتے ہیں کہ ایسی منطق یا عقل سے تو پاگل پن بہتر ہے، جو دل کو اپنے خالق کے آگے جھکا ہی نہ سکے۔
اکبر الہ آبادی اس شعر میں عقل کی اس خشک منطق پر طنز کر رہے ہیں جو انسان کو غرور میں مبتلا کر کے خدا سے دور کر دیتی ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ اگر عقل و فہم دل میں اپنے خالق کے آگے جھکنے کا جذبہ ہی نہ پیدا کر سکے، تو ایسی دانائی سے وہ دیوانگی کہیں بہتر ہے جو روح کو عاجزی سکھاتی ہے۔ شاعر دراصل ہمیں یہ سمجھا رہے ہیں کہ اصل سچائی بحث و مباحثے میں نہیں، بلکہ دل کے سچے سجدے میں ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
