“They could not bring themselves to dismiss rivals from their side; nor could we ever recount our sorrow's tale to them.”
وہ اپنے پہلو سے غیروں کو ہٹا ہی نہ سکے، اور ہم انہیں اپنے دکھ کا قصہ سنا ہی نہ سکے۔
یہ شعر محبوب کی بے رخی اور عاشق کی بے بس خاموشی کا ایک درد ناک مرقع ہے۔ عاشق کی آرزو تھی کہ تنہائی کے کسی لمحے میں اپنے بکھرے ہوئے دل کا احوال سنائے، مگر محبوب غیروں کے ہجوم سے نکل ہی نہ سکا۔ سارا المیہ اسی حسرت میں چھپا ہے کہ غم کا فسانہ لبوں تک آنے سے پہلے ہی خاموشی کی نذر ہو گیا اور رازِ دل سینے میں ہی دفن رہ گیا۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
