“Reason costs far too dear, and love offends decorum; in this era, we could never put the heart to use.”
عقل بہت مہنگی ہے اور عشق تہذیب کے خلاف سمجھا جاتا ہے، اس لیے اس دور میں ہم دل کو کسی کام میں لا ہی نہ سکے۔
یہ شعر ہمارے عہد کے اس المیے کی خوبصورت تصویر کشی کرتا ہے جہاں انسان اپنے ہی دل کے معاملے میں بے بس ہو گیا ہے۔ دنیاوی عقل اور مصلحت پسندی برتنا بہت کٹھن اور مہنگا سودا ہے، جبکہ سچی محبت کو زمانے والے آداب اور تہذیب کے منافی قرار دیتے ہیں۔ اس دوغلے دور کی کشمکش میں دل بالکل بے کار رہ گیا، گویا اس دور میں سچے جذبات کی کوئی وقعت ہی نہیں بچی۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
