ہم تو خود چاہتے تھے چین سے بیٹھیں کوئی دم آپ کی یاد مگر دل سے بھلا ہی نہ سکے

“I longed myself to rest in peace, if only for a while / Yet your remembrance from my heart, I never could exile.”

— اکبر الہ آبادی
معنی

ہم تو خود چاہتے تھے کہ کچھ دیر چین و سکون سے بیٹھیں، لیکن آپ کی یاد کو اپنے دل سے بھلا ہی نہ سکے۔

تشریح

اس شعر میں شاعر دل کی اس لاچاری کا ذکر کر رہے ہیں جہاں انسان خود تو چند لمحوں کا سکون چاہتا ہے، مگر چاہ کر بھی محبوب کے خیالوں سے دامن نہیں چھڑا پاتا۔ دل چین کی تلاش میں بھٹکتا ضرور ہے، لیکن چاہت کا اثر اتنا گہرا ہے کہ بھولنے کی ہر کوشش ناکام ثابت ہوتی ہے۔ یہ شعر عشق کے اس میٹھے اور بے بس کر دینے والے درد کی خوبصورت عکاسی کرتا ہے جہاں یادیں ہر لمحہ سایہ بن کر ساتھ رہتی ہیں۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.