“His love alone is consummate who, like the fragile moth, could never bear the blinding sight of the beloved's face.”
کامل اور سچی محبت صرف اسی کی ہے جو پروانے کی طرح اپنے معشوق کے دیدار کی تاب نہ لا سکے۔
شاعر نے اس شعر میں شمع اور پروانے کے کلاسیکی استعارے سے سچی محبت کی انتہا بیان کی ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ کامل عشق وہ ہے جو محبوب کے روبرو آتے ہی اپنی ہستی مٹا دے، نہ کہ فاصلے پر کھڑے ہو کر محض تماشا دیکھے۔ جیسے پتنگا شمع کے جلوے کی تاب نہ لا کر فنا ہو جاتا ہے، ویسے ہی سچے عاشق کا کمال بھی محبوب کے دیدار کی چمک میں بے خود اور نثار ہو جانے میں ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
