دیکھ لیتے جو انہیں تو مجھے رکھتے معذور شیخ صاحب مگر اس بزم میں جا ہی نہ سکے

“Had the Sheikh but seen my beloved, he would have pardoned my plight; but alas, to that assembly, the pious elder could never venture.”

— اکبر الہ آبادی
معنی

اگر شیخ صاحب میرے محبوب کو دیکھ لیتے تو وہ میری بے بسی اور حالت کو معذور سمجھتے، لیکن وہ اس محفل میں جا ہی نہ سکے۔

تشریح

اس شعر میں شاعر نے روایتی زاہد یعنی شیخ صاحب پر نہایت شوخ اور پُرلطف طنز کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اگر شیخ جی نے میرے محبوب کا حسن و جمال ایک بار بھی دیکھ لیا ہوتا، تو وہ عشق میں میری دیوانگی اور بے خودی کو ضرور معاف کر دیتے اور میرا عذر مان لیتے۔ مگر ستم ظریفی یہ ہے کہ اپنے خود ساختہ اصولوں اور تقوے کے پردے کی وجہ سے شیخ صاحب اس بزمِ جاناں میں قدم ہی نہ رکھ سکے جہاں دل کے سودے ہوتے ہیں۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.