“Had the Sheikh but seen my beloved, he would have pardoned my plight; but alas, to that assembly, the pious elder could never venture.”
اگر شیخ صاحب میرے محبوب کو دیکھ لیتے تو وہ میری بے بسی اور حالت کو معذور سمجھتے، لیکن وہ اس محفل میں جا ہی نہ سکے۔
اس شعر میں شاعر نے روایتی زاہد یعنی شیخ صاحب پر نہایت شوخ اور پُرلطف طنز کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اگر شیخ جی نے میرے محبوب کا حسن و جمال ایک بار بھی دیکھ لیا ہوتا، تو وہ عشق میں میری دیوانگی اور بے خودی کو ضرور معاف کر دیتے اور میرا عذر مان لیتے۔ مگر ستم ظریفی یہ ہے کہ اپنے خود ساختہ اصولوں اور تقوے کے پردے کی وجہ سے شیخ صاحب اس بزمِ جاناں میں قدم ہی نہ رکھ سکے جہاں دل کے سودے ہوتے ہیں۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
