“Strange indeed is the contrivance of this snare of existence; whoever is caught within it can never escape with life.”
زندگی کے جال کی بناوٹ بھی عجیب رکھی گئی ہے کہ جو ایک بار اس میں پھنس جائے، وہ پھر اپنی جان نہیں بچا سکتا۔
شاعر نے زندگی کو ایک ایسے حیرت انگیز جال یعنی 'دامِ ہستی' سے تشبیہ دی ہے جس کی ساخت بڑی عجیب اور پُرفریب ہے۔ انسان اس دنیا میں قدم رکھتے ہی خواہشات، رشتوں اور غموں کے شکنجے میں اس طرح جکڑ جاتا ہے کہ رہائی ممکن نہیں رہتی۔ اس شعر کا گہرا فلسفہ یہ ہے کہ اس جال کا انجام ہی فتا ہے، جہاں آ کر کوئی بھی اپنی جان سلامت لے کر واپس نہیں لوٹ سکتا۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
