غزل
میں اسکی طرف جاؤں تو جانی نہیں جاتا
میں اسکی طرف جاؤں تو جانی نہیں جاتا
یہ غزل زمانے کی حاسدانہ روش اور معاشرتی بندشوں کے باعث پیدا ہونے والی عاشقانہ بے بسی اور فراق کے کرب کو نہایت پُراثر انداز میں بیان کرتی ہے۔ میر تقی میر اس میں واضح کرتے ہیں کہ باہمی چاہت کے باوجود دنیا کی رکاوٹیں محبوبین کو ایک دوسرے کے قریب نہیں آنے دیتیں۔
Source: Divan-e-Turab · HI
نغمہ سنیں
1
मैं उसकी तरफ़ जाऊँ तो जानी नहीं जाता
वो मीर ब-तरफ़ आए तो आने नहीं पाता
میں اسکی طرف جاؤں تو جانی نہیں جاتا
وہ میر بطرف آئے تو آنے نہیں پاتا
اگر میں اپنے محبوب کی طرف جانا چاہوں تو مجھ سے جایا نہیں جاتا، اور اگر وہ میر کی طرف آنا چاہے تو اسے آنے نہیں دیا جاتا۔
2
ये तबा-ए-हसूद दोनो ज़माने का हुआ रंग
दिल कोई किसी साथ लगाने नहीं पाता
یہ طبع حسود دونو زمانے کا ہوارنگ
دل کوئی کسی ساتھ لگانے نہیں پاتا
زمانے کے لوگوں کی حسد بھری فطرت کا یہ حال ہو گیا ہے کہ کوئی کسی سے دل لگانے یا محبت کرنے نہیں پاتا۔
3
इस शहर का रस्म अजब तौर का यारो
अदना को कोई मनाने नहीं पाता
اس شہر کا رسم عجب طور کا یارو
ادنےٰ کو کوئی منانے نہیں پاتا
اے دوستو! اس شہر کا رواج بڑا عجیب ہے کہ یہاں کسی غریب یا ادنیٰ درجے کے انسان کو کوئی منانے نہیں آتا۔
4
गर वास्ते नज़ारा के खड़े हैं तो क्या है
कोई आँख भर उसको तो मिलाने नहीं पाता
گر واسطے نظارہ کے کھڑے ہیں تو کیا ہے
کوئی آنکھ بھر اوسکو تو ملانے نہیں پاتا
اگر لوگ محض دیدار کے لیے کھڑے بھی ہیں تو کیا ہوا، حقیقت تو یہ ہے کہ کوئی بھی ان سے آنکھ بھر کر نظریں نہیں ملا پاتا۔
5
कहना मैं उसे कुछ ही ज़बान से नहीं पाता
सुनता है कोई बात तो सुनाने नहीं पाता
کہنا میں اوسے کچھ ہی زبان سے نہیں پاتا
سنتا ہے کوئی بات تو سنانے نہیں پاتا
میں اپنی زبان سے اسے کچھ کہہ ہی نہیں پاتا، اور اگر کوئی میری بات سننا بھی چاہے تو میں سنا نہیں پاتا۔
6
तुम याद उसे करते हो क्या इस में है हासिल
हाल उसको कोई अपना बताने नहीं पाता
تم یاد اسے کرتے ہو کیا اس میں ہے حاصل
حال اوسکو کوئی اپنا بتانے نہیں پاتا
اسے یاد کرنے سے کیا حاصل ہے جب کوئی بھی اسے اپنا حال نہیں بتا پاتا۔
7
तस्वीर मिरी पुश्त पे उसने है लिखी
मुँह अपना उसे मैं तो दिखाने नहीं पाता
تصویر مری پشت پہ اوسنے ہے لکھی
منھ اپنا اوسے میں تو دکھانے نہیں پاتا
اس نے میری تصویر میری پیٹھ پر بنا دی ہے، اس لیے میں اسے اپنا چہرہ نہیں دکھا پاتا ہوں۔
8
सय्याद रहम कीजिए रोता है और धूप
बुलबुल को यहाँ कोई सताने नहीं पाता
صیاد رحم کیجئے روتا ہے اور دھوپ
بلبل کو یہان کوئی ستانے نہیں پاتا
اے شکاری، رحم کیجیے، بلبل رو رہی ہے اور سخت دھوپ ہے؛ یہاں کسی کو بلبل کو ستانے کی اجازت نہیں ملتی۔
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
