میں اسکی طرف جاؤں تو جانی نہیں جاتا وہ میر بطرف آئے تو آنے نہیں پاتا

“If I turn my steps toward my love, I find I cannot go; and should she venture toward Mir, she is not let to come.”

— شاہ تراب علی قلندر
معنی

اگر میں اپنے محبوب کی طرف جانا چاہوں تو مجھ سے جایا نہیں جاتا، اور اگر وہ میر کی طرف آنا چاہے تو اسے آنے نہیں دیا جاتا۔

تشریح

میر اس شعر میں محبت کی ایک ایسی دردناک بے بسی بیان کر رہے ہیں جہاں دونوں دل ملنے کو بے تاب ہیں مگر راستے کی رکاوٹیں ختم نہیں ہوتیں۔ عاشق جب خود محبوب کی طرف قدم بڑھانا چاہتا ہے تو جھجک، خودداری یا دل کی گھبراہٹ اس کے پاؤں جکڑ لیتی ہے۔ اور اگر محبوب خود میر کی سمت آنے کی کوشش کرے تو زمانہ، رقیب اور سماج کی پابندیاں اس کی راہ میں حائل ہو جاتی ہیں۔ یوں دونوں طرف چاہت تو پوری ہے، مگر قسمت کا فاصلہ مٹنے نہیں پاتا۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.