“I cannot bring my tongue to speak a single word to thee; and even should an ear attend, I fail to tell my plea.”
میں اپنی زبان سے اسے کچھ کہہ ہی نہیں پاتا، اور اگر کوئی میری بات سننا بھی چاہے تو میں سنا نہیں پاتا۔
یہ شعر محبت کی اس بے بسی اور عجب کیفیت کی تصویر کشی کرتا ہے جہاں دل تو باتوں سے بھرا ہوتا ہے مگر محبوب کے روبرو آتے ہی زبان گنگ ہو جاتی ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ اگر کبھی معشوق سننے پر آمادہ بھی ہو، تو دل کے شدید جذبات اور رعبِ حسن بولنے کی مہلت ہی نہیں دیتے۔ سچی محبت کی یہ سب سے پُردرد ستم ظریفی ہے کہ جب اظہار کا وقت آتا ہے تو الفاظ ساتھ چھوڑ دیتے ہیں۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
