“Strange are the customs of this city, my friends: / To soothe the hurt of the humble, no one ever bends.”
اے دوستو! اس شہر کا رواج بڑا عجیب ہے کہ یہاں کسی غریب یا ادنیٰ درجے کے انسان کو کوئی منانے نہیں آتا۔
اس شعر میں شاعر نے معاشرے کی بے حسی اور طبقاتی رویے پر بڑے درد بھرے انداز میں چوٹ کی ہے۔ دنیا میں بڑے اور بااثر لوگوں کے ناز نخرے تو سبھی اٹھاتے ہیں، لیکن ایک عام اور کمزور انسان کے دُکھ اور ناراضگی کی پروا کسی کو نہیں ہوتی۔ یہ شعر دل کو چھو لینے والی سادگی سے بتاتا ہے کہ اس خودغرض بستی میں احساس اور تسلی بھی انسان کی حیثیت دیکھ کر بانٹی جاتی ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
