یہ طبع حسود دونو زمانے کا ہوارنگ دل کوئی کسی ساتھ لگانے نہیں پاتا

“Such has become the envious temper of both worlds today, that no one is ever allowed to give their heart away.”

— شاہ تراب علی قلندر
معنی

زمانے کے لوگوں کی حسد بھری فطرت کا یہ حال ہو گیا ہے کہ کوئی کسی سے دل لگانے یا محبت کرنے نہیں پاتا۔

تشریح

شاعر زمانے میں پھیلی حسد اور رقابت پر درد بھرے انداز میں نوحہ کناں ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ دنیا کا رنگ ڈھنگ اس قدر کینہ پرور ہو چکا ہے کہ کوئی کسی کو محبت اور خوشی کے ساتھ جیتے ہوئے نہیں دیکھ سکتا۔ اس تنگ دل ماحول میں دو دلوں کا باہم جڑنا اور سچی الفت کا پانا ناممکن بنا دیا گیا ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.