صیاد رحم کیجئے روتا ہے اور دھوپ
بلبل کو یہان کوئی ستانے نہیں پاتا
“Have mercy, O hunter, it weeps beneath the scorching sun; for here, none is permitted to torment the nightingale.”
— شاہ تراب علی قلندر
معنی
اے شکاری، رحم کیجیے، بلبل رو رہی ہے اور سخت دھوپ ہے؛ یہاں کسی کو بلبل کو ستانے کی اجازت نہیں ملتی۔
تشریح
اس شعر میں شاعر صیاد سے قفس میں تڑپتی بلبل کے لیے رحم کی التجاء کر رہا ہے، جو سخت دھوپ میں بےحال ہو کر رو رہی ہے۔ بلبل دراصل اُس معصوم اور حساس دل کی علامت ہے جسے قید اور ظلم کی اذیت سہنی پڑ رہی ہے۔ یہ ایک پردرد گزارش ہے کہ کسی کمزور اور لاچار پر یوں بےرحمی سے ظلم ڈھانا کسی بھی طور جائز نہیں۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
← Prev8 / 8
