غزل

वो देखने हमें टुक बीमारी में न आया

वो देखने हमें टुक बीमारी में न आया
میر تقی میر· Ghazal· 8 shers

یہ غزل ایک محبوب کے نہ آنے کی وجہ سے پیدا ہونے والے درد اور مایوسی کا اظہار کرتی ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ وہ دیکھنے کے لیے نہ بیمار ہوا اور نہ ہی کسی وجہ سے آیا۔ یہ محبوب کے غیر متوقع رویے اور بے پرواہی پر ایک گہرا تبصرہ ہے، جو عشق اور جدائی کے گہرے احساسات پر زور دیتا ہے۔

نغمہ سنیں

شعر بہ شعر معنی

رسم الخط
1
वो देखने हमें टुक बीमारी में न आया सौ बार आँखें खोलीं बालीं से सर उठाया
وہ دیکھنے ہمیں ٹک بیماری میں نہ آیا سو بار آنکھیں کھولیں بالیں سے سر اٹھایا
وہ دیکھنے ہمیں ٹک بیماری میں نہ آیا، / سو بار آنکھیں کھولیं بالیं سے سر اٹھایا۔ (مطلب: تم بیماری میں دیکھنے نہیں آئے، جبکہ تم نے بچپن میں بہت کوششیں کی تھیں۔)
2
गुलशन के ताएरों ने क्या बे-मुरव्वती की यक बर्ग-ए-गुल क़फ़स में हम तक न कोई लाया
گلشن کے طائروں نے کیا بے مروتی کی یک برگ گل قفس میں ہم تک نہ کوئی لایا
گُلشن کے تأیروں نے کیا بے مروتی کی، ایک برگِ گل قفس میں ہم تک نہ کوئی لایا۔
3
बे-हेच उस का ग़ुस्सा यारो बला-ए-जाँ है हरगिज़ मना न हम से बहतेरा ही मनाया
بے ہیچ اس کا غصہ یارو بلائے جاں ہے ہرگز منا نہ ہم سے بہتیرا ہی منایا
مطلب یہ ہے کہ، دوستو، اس کا غصہ بہت خطرناک ہے؛ ہمیں کبھی ممانعت نہ کرنا، کیونکہ ہم تو منائے جانے کے لیے ہی بنے ہیں۔
4
क़द्द-ए-बुलंद अगरचे बे-लुत्फ़ भी नहीं है सर्व-ए-चमन में लेकिन अंदाज़ा वो न पाया
قد بلند اگرچہ بے لطف بھی نہیں ہے سرو چمن میں لیکن اندازہ وہ نہ پایا
اگرچہ بلند شاعری میں نزاکت نہیں ہے، مگر وہ پورے چمن کی شان کا اندازہ نہیں لگا سکی۔
5
नक़्शा अजब है उस का नक़्क़ाश ने अज़ल के मतबू ऐसा चेहरा कोई न फिर बनाया
نقشہ عجب ہے اس کا نقاش نے ازل کے مطبوع ایسا چہرہ کوئی نہ پھر بنایا
اس کا نقشہ عجیب ہے، اس کے نقاش نے ازل کے متابو ایسا کوئی چہرہ نہیں بنایا۔
6
शब को नशे में बाहम थी गुफ़्तुगू-ए-दरहम उस मस्त ने झँकाया यानी बहुत झुकाया
شب کو نشے میں باہم تھی گفتگوئے درہم اس مست نے جھنکایا یعنی بہت جھکایا
رات نشے میں دل کی گفتگو میں مگن تھی، مگر اس مست نے صرف جھکایا، یعنی بہت زیادہ جھک گیا۔
7
दिल-बस्तगी में खुलना उस का न उस से देखा बख़्त-ए-निगूँ को हम ने सौ बार आज़माया
دل بستگی میں کھلنا اس کا نہ اس سے دیکھا بخت نگوں کو ہم نے سو بار آزمایا
اس کا دل بستی میں کھلنا اُس سے نہ اُس سے دیکھا، بختِ نگوں کو ہم نے سو بار آزمایا۔
8
आशिक़ जहाँ हुआ है बे-ढंगियाँ ही की हैं इस मीर-ए-बे-ख़िरद ने कब ढब से दिल लगाया
عاشق جہاں ہوا ہے بے ڈھنگیاں ہی کی ہیں اس میرؔ بے خرد نے کب ڈھب سے دل لگایا
اے عاشق! جو بے ڈھنگیاں کی ہیں، یہ میرِ بے خرد نے کب ڈھنگ سے دل لگایا؟
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.