غزل
तिरी अबरू व-तेग़-ए-तेज़ तो हम-दम हैं ये दोनों
तिरी अबरू व-तेग़-ए-तेज़ तो हम-दम हैं ये दोनों
یہ غزل محبوب کے حسن اور اس کے سبب ہونے والے جذباتی درد کا بیان ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ محبوب کی خوبصورتی اور اس کی تیز نگاہ دونوں ہی اس کی زندگی کے ہمدم ہیں۔ وہ اپنے دکھ کو بیان کرنے کے لیے نہ تو قلم پر تنقید پر بھروسہ کرتا ہے اور نہ آنکھوں کے آنسوؤں پر، کیونکہ یہ دونوں چیزیں اس کے وجود کا حصہ ہیں۔
نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
1
तिरी अबरू व-तेग़-ए-तेज़ तो हम-दम हैं ये दोनों
हुए हैं दिल जिगर भी सामने रुस्तम हैं ये दोनों
تیری خوبصورت، تیز، اور پرجوش محبت، میرے دوست، یہ دونوں ہی ہیں۔ دل اور جگر کے سامنے، یہ دونوں ہی رستم ہیں۔
2
न कुछ काग़ज़ में है ताने क़लम को दर्द नालों का
लिखूँ क्या 'इश्क़ के हालात ना-महरम हैं ये दोनों
کاغذ پر قلم کو طعنے دینے کے لیے کچھ نہیں ہے، مگر میں کیا لکھوں؟ یہ دونوں عشق کے حالات نا-محرم ہیں۔
3
लहू आँखों से बहते वक़्त रख लेता हूँ हाथों को
जराहत हैं अगर वे दोनों तो मरहम हैं ये दोनों
جب آنکھوں سے خون بہتا ہے، تو میں اپنے ہاتھوں کو روک لیتا ہوں؛ اگر ان میں زخم ہیں، تو یہ دونوں ہی مرہم ہیں۔
4
किसू चश्मे पे दरिया के दिया ऊपर नज़र रखिए
हमारे दीदा-ए-नम-दीदा क्या कुछ कम हैं ये दोनों
کسی چشمے پہ دریا کے دیا کے اوپر نظر رکھئے، / ہمارے دیدہِ نم دیدہ کیا کچھ کم ہیں یہ دونوں۔
5
लब जाँ-बख़्श उस के मार ही रखते हैं 'आशिक़ को
अगरचे आब-ए-हैवाँ हैं व लेकिन सम हैं ये दोनों
محبوب کے پاس عاشق کے لیے زندگی اور موت دونوں ہیں، اگرچہ حیوان کا پانی موجود ہے، لیکن یہ دونوں برابر ہیں۔
6
नहीं अबरू ही माइल झुक रही है तेग़ भी इधर
हमारे किश्त-ओ-ख़ूँ में मुत्तफ़िक़ बाहम हैं ये दोनों
صرف ابرُو ہی نہیں ڈھل رہی، بلکہ تلوار بھی یہاں ہے؛ یہ دونوں ہمارے قسمت اور خون میں متحد ہیں۔
7
खुले सीने के दाग़ों पर ठहर रहते हैं कुछ आँसू
चमन में महर-वरज़ी के गुल-ओ-शबनम हैं ये दोनों
کھلے سینے کے داغوں پر کچھ آنسو ٹھہرے رہتے ہیں، جیسے چمن میں مہک-ورزی کے گل اور شبنم۔
8
कभू दिल रुकने लगता है जिगर गाहे तड़पता है
ग़म-ए-हिज्राँ में छाती के हमारी जम हैं ये दोनों
کبھی دل رکنے لگتا ہے اور جگر کبھی-کبھی تڑپتا ہے، یہ دونوں ہماری چھاتی میں غمِ ہجران کی وجہ سے جم گئے ہیں۔
9
ख़ुदा जाने कि दुनिया में मिलें उस से कि 'उक़्बा में
मकाँ तो 'मीर'-साहिब शोहरा-ए-आलम हैं ये दोनों
خدا جانے کہ دنیا میں ملیں اُس سے کہ ’عقبہ‘ میں مکان تو ’میر‘ صاحبِ شوہرۂ عالم ہیں یہ دونوں۔
(مطلب: خدا جانے کہ کیا میں اس دنیا میں اُس سے مل پاؤں گا، کیونکہ ’عقبہ‘ کے گھر میں تو ’میر‘ صاحب ہی دنیا کی شان و شوکت ہیں، یہ دونوں۔)
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
