غزل

तिरी अबरू व-तेग़-ए-तेज़ तो हम-दम हैं ये दोनों

तिरी अबरू व-तेग़-ए-तेज़ तो हम-दम हैं ये दोनों
میر تقی میر· Ghazal· 9 shers

یہ غزل محبوب کے حسن اور اس کے سبب ہونے والے جذباتی درد کا بیان ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ محبوب کی خوبصورتی اور اس کی تیز نگاہ دونوں ہی اس کی زندگی کے ہمدم ہیں۔ وہ اپنے دکھ کو بیان کرنے کے لیے نہ تو قلم پر تنقید پر بھروسہ کرتا ہے اور نہ آنکھوں کے آنسوؤں پر، کیونکہ یہ دونوں چیزیں اس کے وجود کا حصہ ہیں۔

نغمہ سنیں
رسم الخط
1
तिरी अबरू व-तेग़-ए-तेज़ तो हम-दम हैं ये दोनों हुए हैं दिल जिगर भी सामने रुस्तम हैं ये दोनों
تری ابرو و تیغ تیز تو ہم دم ہیں یہ دونوں ہوئے ہیں دل جگر بھی سامنے رستم ہیں یہ دونوں
تیری خوبصورت، تیز، اور پرجوش محبت، میرے دوست، یہ دونوں ہی ہیں۔ دل اور جگر کے سامنے، یہ دونوں ہی رستم ہیں۔
2
न कुछ काग़ज़ में है ताने क़लम को दर्द नालों का लिखूँ क्या 'इश्क़ के हालात ना-महरम हैं ये दोनों
نہ کچھ کاغذ میں ہے تانے قلم کو درد نالوں کا لکھوں کیا عشق کے حالات نامحرم ہیں یہ دونوں
کاغذ پر قلم کو طعنے دینے کے لیے کچھ نہیں ہے، مگر میں کیا لکھوں؟ یہ دونوں عشق کے حالات نا-محرم ہیں۔
3
लहू आँखों से बहते वक़्त रख लेता हूँ हाथों को जराहत हैं अगर वे दोनों तो मरहम हैं ये दोनों
لہو آنکھوں سے بہتے وقت رکھ لیتا ہوں ہاتھوں کو جراحت ہیں اگر وے دونوں تو مرہم ہیں یہ دونوں
جب آنکھوں سے خون بہتا ہے، تو میں اپنے ہاتھوں کو روک لیتا ہوں؛ اگر ان میں زخم ہیں، تو یہ دونوں ہی مرہم ہیں۔
4
किसू चश्मे पे दरिया के दिया ऊपर नज़र रखिए हमारे दीदा-ए-नम-दीदा क्या कुछ कम हैं ये दोनों
کسو چشمے پہ دریا کے دیا اوپر نظر رکھیے ہمارے دیدۂ نم دیدہ کیا کچھ کم ہیں یہ دونوں
کسی چشمے پہ دریا کے دیا کے اوپر نظر رکھئے، / ہمارے دیدہِ نم دیدہ کیا کچھ کم ہیں یہ دونوں۔
5
लब जाँ-बख़्श उस के मार ही रखते हैं 'आशिक़ को अगरचे आब-ए-हैवाँ हैं व लेकिन सम हैं ये दोनों
لب جاں بخش اس کے مار ہی رکھتے ہیں عاشق کو اگرچہ آب حیواں ہیں و لیکن سم ہیں یہ دونوں
محبوب کے پاس عاشق کے لیے زندگی اور موت دونوں ہیں، اگرچہ حیوان کا پانی موجود ہے، لیکن یہ دونوں برابر ہیں۔
6
नहीं अबरू ही माइल झुक रही है तेग़ भी इधर हमारे किश्त-ओ-ख़ूँ में मुत्तफ़िक़ बाहम हैं ये दोनों
نہیں ابرو ہی مائل جھک رہی ہے تیغ بھی ادھر ہمارے کشت و خوں میں متفق باہم ہیں یہ دونوں
صرف ابرُو ہی نہیں ڈھل رہی، بلکہ تلوار بھی یہاں ہے؛ یہ دونوں ہمارے قسمت اور خون میں متحد ہیں۔
7
खुले सीने के दाग़ों पर ठहर रहते हैं कुछ आँसू चमन में महर-वरज़ी के गुल-ओ-शबनम हैं ये दोनों
کھلے سینے کے داغوں پر ٹھہر رہتے ہیں کچھ آنسو چمن میں مہر ورزی کے گل‌ و شبنم ہیں یہ دونوں
کھلے سینے کے داغوں پر کچھ آنسو ٹھہرے رہتے ہیں، جیسے چمن میں مہک-ورزی کے گل اور شبنم۔
8
कभू दिल रुकने लगता है जिगर गाहे तड़पता है ग़म-ए-हिज्राँ में छाती के हमारी जम हैं ये दोनों
کبھو دل رکنے لگتا ہے جگر گاہے تڑپتا ہے غم ہجراں میں چھاتی کے ہماری جم ہیں یہ دونوں
کبھی دل رکنے لگتا ہے اور جگر کبھی-کبھی تڑپتا ہے، یہ دونوں ہماری چھاتی میں غمِ ہجران کی وجہ سے جم گئے ہیں۔
9
ख़ुदा जाने कि दुनिया में मिलें उस से कि 'उक़्बा में मकाँ तो 'मीर'-साहिब शोहरा-ए-आलम हैं ये दोनों
خدا جانے کہ دنیا میں ملیں اس سے کہ عقبیٰ میں مکاں تو میرؔ صاحب شہرۂ عالم ہیں یہ دونوں
خدا جانے کہ دنیا میں ملیں اُس سے کہ ’عقبہ‘ میں مکان تو ’میر‘ صاحبِ شوہرۂ عالم ہیں یہ دونوں۔ (مطلب: خدا جانے کہ کیا میں اس دنیا میں اُس سے مل پاؤں گا، کیونکہ ’عقبہ‘ کے گھر میں تو ’میر‘ صاحب ہی دنیا کی شان و شوکت ہیں، یہ دونوں۔)
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.