کبھو دل رکنے لگتا ہے جگر گاہے تڑپتا ہے
غم ہجراں میں چھاتی کے ہماری جم ہیں یہ دونوں
“Sometimes the heart seems to stop, the liver yearns with pain, These two within my chest are frozen in the sorrow of separation.”
— میر تقی میر
معنی
کبھی دل رکنے لگتا ہے اور جگر کبھی-کبھی تڑپتا ہے، یہ دونوں ہماری چھاتی میں غمِ ہجران کی وجہ سے جم گئے ہیں۔
تشریح
یہ شعر ہجر کے درد کی کیفیت بیان کرتا ہے۔ شاعر کہہ رہے ہیں کہ دل کا تھم جانا اور جگر کا تڑپنا، یہ دونوں احساسات بچھڑنے کے غم میں ہمارے سینے میں قید ہیں۔ یہ عشق کا وہ لازوال درد ہے جو کبھی کم نہیں ہوتا۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
تلاوت
ہندی معنی
انگریزی معنی
ہندی تشریح
انگریزی تشریح
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
