غزل

तीर जो उस कमान से निकला

तीर जो उस कमान से निकला
میر تقی میر· Ghazal· 9 shers

یہ غزل بتاتی ہے کہ جو بھی 'تیر' (مشکل یا لفظ) نکلتا ہے، وہ حقیقت میں اندر سے ہی جنم لیتا ہے۔ یہ کسی بیرونی یا غیر متوقع واقعے کا نتیجہ نہیں، بلکہ دل اور خود کے اندرونی کشمکش اور احساسات کا اظہار ہے۔

نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
1
तीर जो उस कमान से निकला जिगर मुर्ग़-ए-जान से निकला
تیر جو اس کمان سے نکلا، جگر مرغِ جان سے نکلا۔ (مطلب: جس طرح ایک کمان سے تیر نکلتا ہے، اسی طرح یہ [درد/جذبہ] دل، محبوب کی جان سے نکلا۔)
2
निकली थी तेग़ बे-दरेग़ उस की मैं ही इक इम्तिहान से निकला
اس کا غرور بغیر کسی سہارے کے نکل گیا تھا، اور میں ہی ایک امتحان سے نکلا۔
3
गो कटे सर कि सोज़-ए-दिल जों शम्अ' अब तो मेरी ज़बान से निकला
گُ کٹے سر کہ سोज़-ئے دِل جون شمع'، اب تو میری زبان سے نکلا۔ (مطلب: یہ یا تو کٹے ہوئے بالوں کا درد ہے، یا دل کی جلتی ہوئی تکلیف کا، جو اب میری زبان سے ظاہر ہوا ہے۔)
4
आगे नाला है ख़ुदा का नाँव बस तो आसमान से निकला
عمরে آگے اے نالہ ہے خدا کا نام، بس تو نہ آسمان سے نکلا۔ اس کا لفظی مطلب ہے کہ میرے سامنے (یا آگے) جو نالہ ہے، وہ خدا کا نام ہے، اور یہ صرف آسمان سے نہیں نکلا ہے۔
5
चश्म-ओ-दिल से जो निकला हिज्राँ में कभू बहर-ओ-कान से निकला
چشم و دل سے جو نکلا ہجر میں، نہ کبھی بہر و کان سے نکلا
6
मर गया जो असीर-ए-क़ैद-ए-हयात तंगना-ए-जहान से निकला
جو شخص زندگی کی قید کا قیدی تھا، وہ دنیا کے دائرے سے نکل گیا۔
7
दिल से मत जा कि हैफ़ उस का वक़्त जो कोई उस मकान से निकला
دل سے مت جا، کہ یہ 'ہافہ' کا وقت ہے، جو کوئی اس مکان (دل) سے نکلا۔
8
उस की शीरीं-लबी की हसरत में शहद पानी हो शान से निकला
اس کی شیریں-لبی کی حسرت میں، شہد پانی ہو شان سے نکلا۔
9
ना-मुरादी की रस्म 'मीर' से है तौर ये इस जवान से निकला
نا-مُرادی کی رسم 'میر' سے ہے، اور یہ توڑ اس جوان سے نکلا۔
Comments

Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.

0

No comments yet.