غزل
तीर जो उस कमान से निकला
तीर जो उस कमान से निकला
یہ غزل بتاتی ہے کہ جو بھی 'تیر' (مشکل یا لفظ) نکلتا ہے، وہ حقیقت میں اندر سے ہی جنم لیتا ہے۔ یہ کسی بیرونی یا غیر متوقع واقعے کا نتیجہ نہیں، بلکہ دل اور خود کے اندرونی کشمکش اور احساسات کا اظہار ہے۔
نغمہ سنیں
1
तीर जो उस कमान से निकला
जिगर मुर्ग़-ए-जान से निकला
تیر جو اس کمان سے نکلا
جگر مرغ جان سے نکلا
تیر جو اس کمان سے نکلا،
جگر مرغِ جان سے نکلا۔ (مطلب: جس طرح ایک کمان سے تیر نکلتا ہے، اسی طرح یہ [درد/جذبہ] دل، محبوب کی جان سے نکلا۔)
2
निकली थी तेग़ बे-दरेग़ उस की
मैं ही इक इम्तिहान से निकला
نکلی تھی تیغ بے دریغ اس کی
میں ہی اک امتحان سے نکلا
اس کا غرور بغیر کسی سہارے کے نکل گیا تھا، اور میں ہی ایک امتحان سے نکلا۔
3
गो कटे सर कि सोज़-ए-दिल जों शम्अ'
अब तो मेरी ज़बान से निकला
گو کٹے سر کہ سوز دل جوں شمع
اب تو میری زبان سے نکلا
گُ کٹے سر کہ سोज़-ئے دِل جون شمع'، اب تو میری زبان سے نکلا۔ (مطلب: یہ یا تو کٹے ہوئے بالوں کا درد ہے، یا دل کی جلتی ہوئی تکلیف کا، جو اب میری زبان سے ظاہر ہوا ہے۔)
4
आगे ऐ नाला है ख़ुदा का नाँव
बस तो न आसमान से निकला
آگے اے نالہ ہے خدا کا ناؤں
بس تو نہ آسمان سے نکلا
عمরে آگے اے نالہ ہے خدا کا نام، بس تو نہ آسمان سے نکلا۔ اس کا لفظی مطلب ہے کہ میرے سامنے (یا آگے) جو نالہ ہے، وہ خدا کا نام ہے، اور یہ صرف آسمان سے نہیں نکلا ہے۔
5
चश्म-ओ-दिल से जो निकला हिज्राँ में
न कभू बहर-ओ-कान से निकला
چشم و دل سے جو نکلا ہجراں میں
نہ کبھو بحر و کان سے نکلا
چشم و دل سے جو نکلا ہجر میں، نہ کبھی بہر و کان سے نکلا
6
मर गया जो असीर-ए-क़ैद-ए-हयात
तंगना-ए-जहान से निकला
مر گیا جو اسیر قید حیات
تنگنائے جہان سے نکلا
جو شخص زندگی کی قید کا قیدی تھا، وہ دنیا کے دائرے سے نکل گیا۔
7
दिल से मत जा कि हैफ़ उस का वक़्त
जो कोई उस मकान से निकला
دل سے مت جا کہ حیف اس کا وقت
جو کوئی اس مکان سے نکلا
دل سے مت جا، کہ یہ 'ہافہ' کا وقت ہے، جو کوئی اس مکان (دل) سے نکلا۔
8
उस की शीरीं-लबी की हसरत में
शहद पानी हो शान से निकला
اس کی شیریں لبی کی حسرت میں
شہد پانی ہو شان سے نکلا
اس کی شیریں-لبی کی حسرت میں، شہد پانی ہو شان سے نکلا۔
9
ना-मुरादी की रस्म 'मीर' से है
तौर ये इस जवान से निकला
نا مرادی کی رسم میرؔ سے ہے
طور یہ اس جوان سے نکلا
نا-مُرادی کی رسم 'میر' سے ہے، اور یہ توڑ اس جوان سے نکلا۔
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
