गो कटे सर कि सोज़-ए-दिल जों शम्अ'
अब तो मेरी ज़बान से निकला
“Oh, the hair that is cut, or the burning pain of the heart, Now has emerged from my tongue.”
— میر تقی میر
معنی
گُ کٹے سر کہ سोज़-ئے دِل جون شمع'، اب تو میری زبان سے نکلا۔ (مطلب: یہ یا تو کٹے ہوئے بالوں کا درد ہے، یا دل کی جلتی ہوئی تکلیف کا، جو اب میری زبان سے ظاہر ہوا ہے۔)
تشریح
یہ شعر بیان کرتا ہے کہ دل کا جو غم ایک جلتی شمع کی طرح اندر ہی اندر تھا، وہ اب زباں پر آ چکا ہے۔ یہ خاموش درد کا اظہار ہے، جو بالآخر الفاظ کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔
آڈیو
تلاوت
ہندی معنی
انگریزی معنی
ہندی تشریح
انگریزی تشریح
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
