उस की शीरीं-लबी की हसरत में शहद पानी हो शान से निकला

In the longing for her sweet, graceful form, Came a nectar of honey, emanating with pride.

میر تقی میر
معنی

اس کی شیریں-لبی کی حسرت میں، شہد پانی ہو شان سے نکلا۔

تشریح

یہ شعر محبوب کی زبان کی مٹھاس کے تصور میں ایک عجیب نشہ بیان کرتا ہے۔ शायर فرماتے ہیں کہ بس اس کی شیریں باتوں کی چاہت میں بھی، جیسے شہد کا پانی بہہ نکلے۔ یہ عشق کی گہرائی اور وسوسہ ہے۔

آڈیو

تلاوت
ہندی معنی
انگریزی معنی
ہندی تشریح
انگریزی تشریح
Comments

Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.

0

No comments yet.