غزل

शहर से यार सवार हुआ जो सवाद में ख़ूब ग़ुबार है आज

शहर से यार सवार हुआ जो सवाद में ख़ूब ग़ुबार है आज
میر تقی میر· Ghazal· 9 shers

یہ غزل ایک ایسے شخص کی آمد کا بیان کرتی ہے جو شہر میں ایک طرح کا جوش اور ہنگامہ لے کر آیا ہے۔ اس کی موجودگی ماحول میں ایک عجیب سی نشاط اور رونق بھر دیتی ہے۔ یہ غزل اس نشہ آور اثر کو بیان کرتی ہے جو اس کے حسن اور انداز سے پیدا ہوتا ہے۔

نغمہ سنیں
رسم الخط
1
शहर से यार सवार हुआ जो सवाद में ख़ूब ग़ुबार है आज दश्ती वहश ओ तैर उस के सर तेज़ी ही में शिकार है आज
شہر سے یار سوار ہوا جو سواد میں خوب غبار ہے آج دشتی وحش و طیر اس کے سر تیزی ہی میں شکار ہے آج
شہر سے یار سوار ہوا، جس سے ماحول میں خوب رونق ہے آج؛ جنگل، وحش اور دریا میں آج تیزی سے شکار کا کھیل ہے۔
2
बरफ़रोख़्ता रुख़ है उस का किस ख़ूबी से मस्ती में पी के शराब शगुफ़्ता हुआ है उस नौ-गुल पे बहार है आज
بر افروختہ رخ ہے اس کا کس خوبی سے مستی میں پی کے شراب شگفتہ ہوا ہے اس نو گل پہ بہار ہے آج
اس کا چہرہ برف جیسا صاف ہے، اور کس خوبصورتی سے وہ نشے میں مست ہے؛ آج، اس خوبصورت نواب لڑکی پر بہار آئی ہے، جو شراب پینے سے نشے میں ہے۔
3
उस का बहर-ए-हुस्न सरासर औज ओ मौज ओ तलातुम है शौक़ की अपने निगाह जहाँ तक जावे बोस-ओ-कनार है आज
اس کا بحر حسن سراسر اوج و موج و تلاطم ہے شوق کی اپنے نگاہ جہاں تک جاوے بوس و کنار ہے آج
اس کا بہرِ حسن سراسر اوج و موج و طلاطم ہے। شوق کی اپنی نگاہ جہاں تک جاویے، بوس و کنار ہے آج۔
4
आँखें उस की लाल हुईं हैं और चले जाते हैं सर रात को दारू पी सोया था उस का सुब्ह ख़ुमार है आज
آنکھیں اس کی لال ہوئیں ہیں اور چلے جاتے ہیں سر رات کو دارو پی سویا تھا اس کا صبح خمار ہے آج
اس کی آنکھیں لال ہو گئی ہیں اور وہ چلا جاتا ہے؛ رات کو شراب پی کر سویا تھا، اور آج صبح وہ نشے میں ہے۔
5
घर आए हो फ़क़ीरों के तो आओ बैठो लुत्फ़ करो क्या है जान बिन अपने कने सो इन क़दमों पे निसार है आज
گھر آئے ہو فقیروں کے تو آؤ بیٹھو لطف کرو کیا ہے جان بن اپنے کنے سو ان قدموں پہ نثار ہے آج
اگر آپ فقیروں کے گھر آئے ہیں، تو آ کر یہاں آرام کیجیے۔ آج میری جان آپ کے قدموں میں نثار ہے۔
6
क्या पूछो हो साँझ तलक पहलू में क्या क्या तड़पा है कल की निस्बत दिल को हमारे बारे कुछ तो क़रार है आज
کیا پوچھو ہو سانجھ تلک پہلو میں کیا کیا تڑپا ہے کل کی نسبت دل کو ہمارے بارے کچھ تو قرار ہے آج
کیا پوچھوں کہ شام تک پہلو میں کیا کیا تڑپا ہے، کل کی نسبت دل کو ہمارے بارے میں کچھ تو قرار ہے آج۔
7
ख़ूब जो आँखें खोल के देखा शाख़-ए-गुल सा नज़र आया उन रंगों फूलों में मिला कुछ महव-ए-जल्वा-ए-यार है आज
خوب جو آنکھیں کھول کے دیکھا شاخ گل سا نظر آیا ان رنگوں پھولوں میں ملا کچھ محو جلوۂ یار ہے آج
کئی خوبصورتی سے نظر آیا، جیسے پھول کی شاخ ہو، اور آج، پھولوں کے رنگوں میں محبوب کی جادوئی چمک کا کچھ انداز ہے۔
8
जज़्ब-ए-इश्क़ जिधर चाहे ले जाए है महमिल लैला का यानी हाथ में मजनूँ के नाक़े की उस के महार है आज
جذب عشق جدھر چاہے لے جائے ہے محمل لیلیٰ کا یعنی ہاتھ میں مجنوں کے ناقے کی اس کے مہار ہے آج
جذبہِ عشق جہاں چاہے وہاں لے جاتا ہے، جیسے لمحلِ لیلیٰ کا۔ آج مجنّون کی چاہت کا ہاتھ اس راز کے دہلیز پر ہے۔
9
रात का पहना हार जो अब तक दिन को उतारा उन ने नहीं शायद 'मीर' जमाल-ए-गुल भी उस के गले का हार है आज
رات کا پہنا ہار جو اب تک دن کو اتارا ان نے نہیں شاید میرؔ جمال گل بھی اس کے گلے کا ہار ہے آج
رات کا پہنا ہار جو اب تک دن کو اتارا اُن نے نہیں، شاید 'میر' جمالِ گل بھی اُس کے گلے کا ہار ہے آج۔ (مطلب: یہ اشعار کہتے ہیں کہ رات نے وہ ہار نہیں اتارا جو دن نے پہنا تھا؛ شاید 'میر' جمالِ گل بھی آج اس کے گلے کا ہار ہے۔)
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.