Sukhan AI
रात का पहना हार जो अब तक दिन को उतारा उन ने नहीं
शायद 'मीर' जमाल-ए-गुल भी उस के गले का हार है आज

The garland of the night, which they removed from the day, is not a thing Perhaps even 'Mir,' the garland of Jamal-e-Gul, is today.

میر تقی میر
معنی

رات کا پہنا ہار جو اب تک دن کو اتارا اُن نے نہیں، شاید 'میر' جمالِ گل بھی اُس کے گلے کا ہار ہے آج۔ (مطلب: یہ اشعار کہتے ہیں کہ رات نے وہ ہار نہیں اتارا جو دن نے پہنا تھا؛ شاید 'میر' جمالِ گل بھی آج اس کے گلے کا ہار ہے۔)

تشریح

یہ شعر جمال کو ایک ایسے ہار سے تشبیہ دیتا ہے جو دن رات ساتھ رہتا ہے۔ شاعر کہہ رہے ہیں کہ محبوب کا حسن کوئی عارضی زیور نہیں، بلکہ اس کی ذات کا ایک مستقل حصہ ہے۔

آڈیو

تلاوت
ہندی معنیIn app
انگریزی معنیIn app
ہندی تشریحIn app
انگریزی تشریحIn app
Comments

Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.

0

No comments yet.