غزل
रहे ख़याल तनिक हम भी रू-सियाहों का
रहे ख़याल तनिक हम भी रू-सियाहों का
یہ غزل ٹوٹے ہوئے اور بکھرے ہوئے خیالوں اور یادوں کے سہارے جینا سکھاتی ہے۔ شاعر بیان کرتا ہے کہ کس طرح محبت کا درد اور جدائی کا احساس اس کی زندگی کو گہرا کر گیا ہے۔ مجموعی طور پر، یہ غزل انسانی جذبات کی پیچیدگیوں اور زندگی کے دکھوں کا احاطہ کرتی ہے۔
نغمہ سنیں
1
रहे ख़याल तनिक हम भी रू-सियाहों का
लगे हो ख़ून बहुत करने बे-गुनाहों का
رہے خیال تنک ہم بھی رو سیاہوں کا
لگے ہو خون بہت کرنے بے گناہوں کا
ہمارے بارے میں بس ایک ہلکا سا خیال باقی ہے، مگر تم بے گناہوں کا بہت خون بہانے والے بن گئے ہو۔
2
नहीं सितारे ये सूराख़ पड़ गए हैं तमाम
फ़लक हरीफ़ हुआ था हमारी आहों का
نہیں ستارے یہ سوراخ پڑ گئے ہیں تمام
فلک حریف ہوا تھا ہماری آہوں کا
نہیں ستارے یہ سوراخ پڑ گئے ہیں تمام۔ فلک ہریف ہوا تھا ہماری آہوں کا۔
3
गली में उस की फटे कपड़ों पर मिरे मत जा
लिबास-ए-फ़क़्र है वाँ फ़ख़्र बादशाहों का
گلی میں اس کی پھٹے کپڑوں پر مرے مت جا
لباس فقر ہے واں فخر بادشاہوں کا
گلی میں اُس کے پھٹے کپڑوں پر میرے مت جا، لباسِ فقر ہے وہ فخر بادشاہوں کا
4
तमाम ज़ुल्फ़ के कूचे हैं मार-ए-पेच उस की
तुझी को आवे दिला चलना ऐसी राहों का
تمام زلف کے کوچے ہیں مار پیچ اس کی
تجھی کو آوے دلا چلنا ایسی راہوں کا
اس کی زلفوں کے گُچے ہیں مار-ए-پچ، میں دل کو ایسے راستوں پر کیسے چلنے کا اشارہ کروں۔
5
उसी जो ख़ूबी से लाए तुझे क़यामत में
तो हर्फ़-ए-कुन ने किया गोश दाद-ख़्वाहों का
اسی جو خوبی سے لائے تجھے قیامت میں
تو حرف کن نے کیا گوش دادخواہوں کا
وہ خوبی جو تمہیں قیامت میں لائے گی، وہ تو حرفِ کُن نے خواہشوں کو آواز دی۔
6
तमाम-उम्र रहें ख़ाक ज़ेर-ए-पा उस की
जो ज़ोर कुछ चले हम इज्ज़ दस्त-गाहों का
تمام عمر رہیں خاک زیر پا اس کی
جو زور کچھ چلے ہم عجز دست گاہوں کا
میں ساری عمر اس کی خاک بن کر رہنا چاہتا ہوں، جس نے ہمیں اپنی عزت کی حفاظت کرنے کی طاقت دی۔
7
कहाँ से तह करें पैदा ये नाज़िमान-ए-हाल
कि पोच-बाफ़ी ही है काम इन जुलाहों का
کہاں سے تہ کریں پیدا یہ ناظمان حال
کہ پوچ بافی ہی ہے کام ان جلاہوں کا
میں اپنی اس حال کا نظم کہاں سے بُنوں، جب ان دھاگوں کے بُننے والوں کا کام صرف تہوں کو جوڑنا ہے۔
8
हिसाब काहे का रोज़-ए-शुमार में मुझ से
शुमार ही नहीं है कुछ मिरे गुनाहों का
حساب کاہے کا روز شمار میں مجھ سے
شمار ہی نہیں ہے کچھ مرے گناہوں کا
اے خدا! روزِ شمار میں مجھ سے حساب کیوں لیا جا رہا ہے؟ میرے کچھ گناہوں کا تو ابھی تک شمار بھی نہیں ہوا۔
9
तिरी जो आँखें हैं तलवार के तले भी इधर
फ़रेब-ख़ुर्दा है तू 'मीर' किन निगाहों का
تری جو آنکھیں ہیں تلوار کے تلے بھی ادھر
فریب خوردہ ہے تو میرؔ کن نگاہوں کا
اس شعر کا مطلب ہے کہ اے فریب خرد، تمہاری آنکھیں جو تلوار کی دھار کے نیچے بھی ہیں، یہ کس نگاہوں کا دھوکہ ہے۔
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
