Sukhan AI
غزل

रहे ख़याल तनिक हम भी रू-सियाहों का

रहे ख़याल तनिक हम भी रू-सियाहों का
میر تقی میر· Ghazal· 9 shers

یہ غزل ٹوٹے ہوئے اور بکھرے ہوئے خیالوں اور یادوں کے سہارے جینا سکھاتی ہے۔ شاعر بیان کرتا ہے کہ کس طرح محبت کا درد اور جدائی کا احساس اس کی زندگی کو گہرا کر گیا ہے۔ مجموعی طور پر، یہ غزل انسانی جذبات کی پیچیدگیوں اور زندگی کے دکھوں کا احاطہ کرتی ہے۔

نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
1
रहे ख़याल तनिक हम भी रू-सियाहों का लगे हो ख़ून बहुत करने बे-गुनाहों का
ہمارے بارے میں بس ایک ہلکا سا خیال باقی ہے، مگر تم بے گناہوں کا بہت خون بہانے والے بن گئے ہو۔
4
तमाम ज़ुल्फ़ के कूचे हैं मार-ए-पेच उस की तुझी को आवे दिला चलना ऐसी राहों का
اس کی زلفوں کے گُچے ہیں مار-ए-پچ، میں دل کو ایسے راستوں پر کیسے چلنے کا اشارہ کروں۔
6
तमाम-उम्र रहें ख़ाक ज़ेर-ए-पा उस की जो ज़ोर कुछ चले हम इज्ज़ दस्त-गाहों का
میں ساری عمر اس کی خاک بن کر رہنا چاہتا ہوں، جس نے ہمیں اپنی عزت کی حفاظت کرنے کی طاقت دی۔
7
कहाँ से तह करें पैदा ये नाज़िमान-ए-हाल कि पोच-बाफ़ी ही है काम इन जुलाहों का
میں اپنی اس حال کا نظم کہاں سے بُنوں، جب ان دھاگوں کے بُننے والوں کا کام صرف تہوں کو جوڑنا ہے۔
8
हिसाब काहे का रोज़-ए-शुमार में मुझ से शुमार ही नहीं है कुछ मिरे गुनाहों का
اے خدا! روزِ شمار میں مجھ سے حساب کیوں لیا جا رہا ہے؟ میرے کچھ گناہوں کا تو ابھی تک شمار بھی نہیں ہوا۔
9
तिरी जो आँखें हैं तलवार के तले भी इधर फ़रेब-ख़ुर्दा है तू 'मीर' किन निगाहों का
اس شعر کا مطلب ہے کہ اے فریب خرد، تمہاری آنکھیں جو تلوار کی دھار کے نیچے بھی ہیں، یہ کس نگاہوں کا دھوکہ ہے۔
Comments

Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.

0

No comments yet.