हिसाब काहे का रोज़-ए-शुमार में मुझ से
शुमार ही नहीं है कुछ मिरे गुनाहों का
“Why should I account for sins on this day of reckoning? For many of my sins, I am not even counted.”
— میر تقی میر
معنی
اے خدا! روزِ شمار میں مجھ سے حساب کیوں لیا جا رہا ہے؟ میرے کچھ گناہوں کا تو ابھی تک شمار بھی نہیں ہوا۔
تشریح
یہ شعر حساب کتاب کے موضوع پر ایک گہری سوچ پیش کرتا ہے۔ شاعر یہ کہہ رہے ہیں کہ میرے گناہوں کا حساب روزِ شمار میں بھی مکمل نہیں کیا جا سکتا۔ یہ ایک طرح کا بے بسی اور انصاف کے تصور پر سوال ہے۔
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
