तिरी जो आँखें हैं तलवार के तले भी इधर
फ़रेब-ख़ुर्दा है तू 'मीर' किन निगाहों का
“Oh, you who have eyes beneath the sword's edge, / You are the deceiver, 'Mir', of what gaze?”
— میر تقی میر
معنی
اس شعر کا مطلب ہے کہ اے فریب خرد، تمہاری آنکھیں جو تلوار کی دھار کے نیچے بھی ہیں، یہ کس نگاہوں کا دھوکہ ہے۔
تشریح
یہ شعر محبوب کی آنکھوں کے سحر اور خطرے کو بیان کرتا ہے۔ میر تقی میر پوچھ رہے ہیں کہ یہ آنکھیں، جو تلوار کے نیچے بھی جادو کرتی ہیں، یہ کس طرح کا فریب ہیں؟
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
← Prev9 / 9
