غزل

पुश्त-ए-पा मारी बस-कि दुनिया पर

पुश्त-ए-पा मारी बस-कि दुनिया पर
میر تقی میر· Ghazal· 8 shers

یہ غزل زندگی کے جدوجہد اور دنیا کے فریب پر مبنی ہے۔ شاعر بیان کرتے ہیں کہ وہ زندگی کے دکھوں اور مصائب سے گزرے ہیں، اور محبت کے گہرے تجربات نے انہیں زندگی کی عدم استحکام کا احساس دلایا ہے۔

نغمہ سنیں

شعر بہ شعر معنی

رسم الخط
1
पुश्त-ए-पा मारी बस-कि दुनिया पर ज़ख़्म पड़ पड़ गया मिरे पा पर
پشت پا ماری بسکہ دنیا پر زخم پڑ پڑ گیا مرے پا پر
میرے نسب کا راستہ، میرے پاؤں، دنیا کے زخموں سے خراب ہو گئے ہیں۔
2
डूबे उछले है आफ़्ताब हनूज़ कहीं देखा था तुझ को दरिया पर
ڈوبے اچھلے ہے آفتاب ہنوز کہیں دیکھا تھا تجھ کو دریا پر
ڈُوبے اچھلے ہے آفتاب ہنوز، کہیں دیکھا تھا تجھ کو دریا پر۔ (مطلب: سورج ڈوب کر اچھلا ہے، اور میں نے تمہیں ایک بار دریا کے کنارے دیکھا تھا۔)
3
गिरो मय हूँ आओ शैख़ शहर अब्र झूमा ही जाहे सहरा पर
گرو مے ہوں آؤ شیخ شہر ابر جھوما ہی جاہے صحرا پر
میں وہ وہمئی 'میں' ہوں، آ اے شہر کے شیخ، کہ بادل واقعی صحرا پر نچائیں۔
4
दिल-ए-पुर-ख़ूँ तो था गुलाबी शराब जी ही अपना चला न सहबा पर
دل پر خوں تو تھا گلابی شراب جی ہی اپنا چلا نہ صہبا پر
دل-ए-پور-خون کا مطلب ہے ایسا دل جو شراب کے نشے سے بھرا ہوا ہو، اور یہ اشعار کہہ رہے ہیں کہ وہ دل اپنے ساتھی کے بغیر نہیں رہ سکتا۔
5
याँ जहाँ में कि शहर-ए-गोराँ है सात पर्दे हैं चश्म-ए-बीना पर
یاں جہاں میں کہ شہر گوراں ہے سات پردے ہیں چشم بینا پر
شاعر کہہ رہے ہیں کہ جس جگہ کو گورا شہر کہتے ہیں، وہاں بصارت سے عاجز کی آنکھوں پر سات پردے ہیں۔
6
फ़ुर्सत-ए-ऐश अपनी यूँ गुज़री कि मुसीबत पड़ी तमन्ना पर
فرصت عیش اپنی یوں گزری کہ مصیبت پڑی تمنا پر
फ़ुर्सत-ए-ऐश اپنی یوں گزری کہ مصیبت پڑی تمنا پر۔
7
तारुम-ए-ताक से लहू टपका संग-बाराँ हुआ है मीना पर
طارم تاک سے لہو ٹپکا سنگ باراں ہوا ہے مینا پر
تارومِ تاغ سے لہو ٹپکا، یعنی محراب کے ہار سے خون ٹپکا۔ سنگ-باراں ہوا ہے مینہ پر، جس کا مطلب ہے کہ چوڑی پر ایک ملاپ ہو گیا ہے۔
8
'मीर' क्या बात उस के होंटों की जीना दूभर हुआ मसीहा पर
میرؔ کیا بات اس کے ہونٹوں کی جینا دوبھر ہوا مسیحا پر
اے میر، اس کے ہونٹوں میں کیا بات ہے کہ مسیحے کے لیے بھی جینا مشکل ہو گیا ہے۔
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.