غزل

हम भी फिरते हैं यक हशम ले कर

हम भी फिरते हैं यक हशम ले कर
میر تقی میر· Ghazal· 10 shers

یہ غزل زندگی کے دکھوں اور جدوجہد کے سفر کا بیان ہے، جہاں شاعر کہتا ہے کہ وہ بھی غم اور درد کا بوجھ لیے گھوم رہا ہے۔ یہ کلام زندگی کو ایک عارضی ٹھہراؤ سمجھتا ہے، اور ہر قدم پر غم اور یادوں کا بوجھ لیے آگے بڑھنے کا ذکر کرتا ہے۔

نغمہ سنیں

شعر بہ شعر معنی

رسم الخط
1
हम भी फिरते हैं यक हशम ले कर दस्ता-ए-दाग़-ओ-फ़ौज-ए-ग़म ले कर
ہم بھی پھرتے ہیں یک حشم لے کر دستۂ داغ و فوج غم لے کر
ہم بھی ایک ہشم لے کر پھرتے ہیں، جس میں داغ اور غم کی فوج کا دستہ ہے۔
2
दस्त-कश नाला पेश-रौ गिर्या आह चलती है याँ इल्म ले कर
دست کش نالہ پیش رو گریہ آہ چلتی ہے یاں علم لے کر
دستکش نالہ پیشرؤ گریہ آہ چلتی ہے یہاں علم لے کر مطلب، یہ ہاتھ کھینچنے والا غم اور آنسو پیش کرتا ہے۔ کیا یہاں علم حاصل کر کے آہ نکلتی ہے۔
3
मर्ग इक माँदगी का वक़्फ़ा है या'नी आगे चलेंगे दम ले कर
مرگ اک ماندگی کا وقفہ ہے یعنی آگے چلیں گے دم لے کر
مسیر ایک مستی کا وقفہ ہے، یعنی آگے چلتے ہوئے سانس لیتے رہنا۔
4
उस के ऊपर कि दिल से था नज़दीक ग़म-ए-दूरी चले हैं हम ले कर
اس کے اوپر کہ دل سے تھا نزدیک غم دوری چلے ہیں ہم لے کر
اُس کے اوپر کہ دل سے تھا نزدیک، غمِ دوری چلے ہیں ہم لے کر۔
5
तेरी वज़-ए-सितम से ऐ बे-दर्द एक आलम गया अलम ले कर
تیری وضع ستم سے اے بے درد ایک عالم گیا الم لے کر
تیرے وِزے ستم سے اے بے درد، ایک عالم گیا الم لے کر۔ اس کا مطلب ہے کہ تمہاری ظلم کی وجہ سے، اے بے رحم شخص، ایک پوری دنیا غم لیے چلی گئی۔
6
बारहा सैद-गह से उस की गए दाग़-ए-यास आहु-ए-हरम ले कर
بارہا صید گہ سے اس کی گئے داغ یاس آہوئے حرم لے کر
بارہا سید گاہ سے اس کی گئے، داغِ یاس آہوںِ حرم لے کر۔ اس کا مطلب ہے کہ بارہا سید گاہ سے उस (کسی) کے داغ اور یاس کے ساتھ، حرم کی آگ لے کر گئے۔
7
ज़ोफ़ याँ तक खिंचा कि सूरत-गर रह गए हाथ में क़लम ले कर
ضعف یاں تک کھنچا کہ صورت گر رہ گئے ہاتھ میں قلم لے کر
شاعر پوچھتا ہے کہ تم نے اپنی خوبصورتی کو کتنا پھیلایا، اے محبوب، کہ میں ہاتھ میں قلم لیے یہاں رہ گیا۔
8
दिल पे कब इक्तिफ़ा करे है इश्क़ जाएगा जान भी ये ग़म ले कर
دل پہ کب اکتفا کرے ہے عشق جائے گا جان بھی یہ غم لے کر
یہ عشق کے دل پر ٹھہرنے کا وقت کب آئے گا، اور یہ جان بھی اس غم کو لے کر چلی جائے گی۔
9
शौक़ अगर है यही तो ऐ क़ासिद हम भी आते हैं अब रक़म ले कर
شوق اگر ہے یہی تو اے قاصد ہم بھی آتے ہیں اب رقم لے کر
اگر شوق یہی ہے اے شاعر تو ہم بھی اب رقم لے کر آئیں گے۔
10
'मीर'-साहिब ही चूके ए बद-अहद वर्ना देना था दिल क़सम ले कर
میرؔ صاحب ہی چوکے اے بد عہد ورنہ دینا تھا دل قسم لے کر
اے میر، تم نے اپنا وعدہ توڑ دیا، ورنہ دل قسم لے کر
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.