غزل
हम भी फिरते हैं यक हशम ले कर
हम भी फिरते हैं यक हशम ले कर
یہ غزل زندگی کے دکھوں اور جدوجہد کے سفر کا بیان ہے، جہاں شاعر کہتا ہے کہ وہ بھی غم اور درد کا بوجھ لیے گھوم رہا ہے۔ یہ کلام زندگی کو ایک عارضی ٹھہراؤ سمجھتا ہے، اور ہر قدم پر غم اور یادوں کا بوجھ لیے آگے بڑھنے کا ذکر کرتا ہے۔
نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
1
हम भी फिरते हैं यक हशम ले कर
दस्ता-ए-दाग़-ओ-फ़ौज-ए-ग़म ले कर
ہم بھی ایک ہشم لے کر پھرتے ہیں، جس میں داغ اور غم کی فوج کا دستہ ہے۔
2
दस्त-कश नाला पेश-रौ गिर्या
आह चलती है याँ इल्म ले कर
دستکش نالہ پیشرؤ گریہ
آہ چلتی ہے یہاں علم لے کر
مطلب، یہ ہاتھ کھینچنے والا غم اور آنسو پیش کرتا ہے۔ کیا یہاں علم حاصل کر کے آہ نکلتی ہے۔
3
मर्ग इक माँदगी का वक़्फ़ा है
या'नी आगे चलेंगे दम ले कर
مسیر ایک مستی کا وقفہ ہے، یعنی آگے چلتے ہوئے سانس لیتے رہنا۔
4
उस के ऊपर कि दिल से था नज़दीक
ग़म-ए-दूरी चले हैं हम ले कर
اُس کے اوپر کہ دل سے تھا نزدیک، غمِ دوری چلے ہیں ہم لے کر۔
5
तेरी वज़-ए-सितम से ऐ बे-दर्द
एक आलम गया अलम ले कर
تیرے وِزے ستم سے اے بے درد، ایک عالم گیا الم لے کر۔ اس کا مطلب ہے کہ تمہاری ظلم کی وجہ سے، اے بے رحم شخص، ایک پوری دنیا غم لیے چلی گئی۔
6
बारहा सैद-गह से उस की गए
दाग़-ए-यास आहु-ए-हरम ले कर
بارہا سید گاہ سے اس کی گئے، داغِ یاس آہوںِ حرم لے کر۔ اس کا مطلب ہے کہ بارہا سید گاہ سے उस (کسی) کے داغ اور یاس کے ساتھ، حرم کی آگ لے کر گئے۔
7
ज़ोफ़ याँ तक खिंचा कि सूरत-गर
रह गए हाथ में क़लम ले कर
شاعر پوچھتا ہے کہ تم نے اپنی خوبصورتی کو کتنا پھیلایا، اے محبوب، کہ میں ہاتھ میں قلم لیے یہاں رہ گیا۔
8
दिल पे कब इक्तिफ़ा करे है इश्क़
जाएगा जान भी ये ग़म ले कर
یہ عشق کے دل پر ٹھہرنے کا وقت کب آئے گا، اور یہ جان بھی اس غم کو لے کر چلی جائے گی۔
9
शौक़ अगर है यही तो ऐ क़ासिद
हम भी आते हैं अब रक़म ले कर
اگر شوق یہی ہے اے شاعر تو ہم بھی اب رقم لے کر آئیں گے۔
10
'मीर'-साहिब ही चूके ए बद-अहद
वर्ना देना था दिल क़सम ले कर
اے میر، تم نے اپنا وعدہ توڑ دیا، ورنہ دل قسم لے کر
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
