غزل

रात प्यासा था मेरे लोहू का

रात प्यासा था मेरे लोहू का
میر تقی میر· Ghazal· 10 shers

یہ غزل ایک عاشق کے شدید تڑپ اور جدائی کے غم کو بیان کرتی ہے، جس میں وہ محبوب کے عشق کی پیاس اور اس کے بغیر زندگی کی بے چینی کا ذکر کرتا ہے۔ اس میں فراق کا درد، عشق کے نشے اور اپنے یار کی حُسن پر حسد جیسے گہرے محبت کے جذبات عکاسی کیے گئے ہیں۔

نغمہ سنیں

شعر بہ شعر معنی

رسم الخط
1
रात प्यासा था मेरे लोहू का हूँ दिवाना तिरे सग को का
رات پیاسا تھا میرے لوہو کا ہوں دوانہ ترے سگ کو کا
رات پیاسا تھا میرے لہو کا، ہوں دیوانہ تیرے سنگ کو کا۔ (مطلب: میرے خون کو رات میں پیاس تھی، اور میں تمہاری صحبت کا دیوانہ ہوں।)
2
शोला-ए-आह जूँ-तूँ अब मुझ को फ़िक्र है अपने हर बिन मू का
شعلۂ آہ جوں توں اب مجھ کو فکر ہے اپنے ہر بن مو کا
شولا-ए-آہ، میرے پیارے، اب مجھ کو کیا فکر ہے؟ میں تو اپنے ہر بن مُو کا ہوں۔
3
है मिरे यार की मिसों का रश्क कुश्ता हूँ सब्ज़ा-ए-लब-ए-जू का
ہے مرے یار کی مسوں کا رشک کشتہ ہوں سبزۂ لب جو کا
ہِ مِرے یار کی مِسنوں کا رَشک، قُشتا ہوں سَبزۂ لبِ اَے جُو کا۔ (معنی: میرے محبوب کے حسن کا حسد، جو کے ہونٹوں کی تازگی کا بوجھ ہے۔)
4
बोसा देना मुझे न कर मौक़ूफ़ है वज़ीफ़ा यही दुआ-गो का
بوسہ دینا مجھے نہ کر موقوف ہے وظیفہ یہی دعا گو کا
بوسہ دینا مجھے نہ کر موقوف، ہے وज़ीफ़ा یہی دعا گو کا
5
मैं ने तलवार से हिरन मारे इश्क़ कर तेरी चश्म-ओ-अबरू का
میں نے تلوار سے ہرن مارے عشق کر تیری چشم و ابرو کا
میں نے تلوار سے ہرن مارے، / عشق کر تیری چشم و ابرو کا।
6
शोर क़ुलक़ुल के होती थी माने रीश-ए-क़ाज़ी पे रात मैं थूका
شور قلقل کے ہوتی تھی مانع ریش قاضی پہ رات میں تھوکا
رات میں میں نے قاضی کے پر پر تھوکا تھا، جو کہ شور مچاتی کوयल کی آواز جیسا تھا۔
7
इत्र-आगीं है बाद-ए-सुब्ह मगर खुल गया पेच-ए-ज़ुल्फ़ ख़ुश्बू का
عطر آگیں ہے باد صبح مگر کھل گیا پیچ زلف خوشبو کا
صبح کی ہوا عطر اور آگ جیسی خوشبودار ہے، مگر تمہارے زلفوں کے گُتھی ہوئے پेंच نے خوشبو کو کھول دیا ہے۔
8
एक दो हूँ तो सहर-ए-चश्म कहूँ कारख़ाना है वाँ तो जादू का
ایک دو ہوں تو سحر چشم کہوں کارخانہ ہے واں تو جادو کا
اگر میں اسے چشم کی سحر کہوں، یا اگر میں اسے جادو کا کارخانہ کہوں۔
9
'मीर' हर-चंद मैं ने चाहा लेक न छुपा इश्क़-ए-तिफ़्ल बद-ख़ू का
میرؔ ہر چند میں نے چاہا لیک نہ چھپا عشق طفل بد خو کا
شایر کہتے ہیں کہ میں نے وہ جھیل چاہا، مگر اپنے بچے کے دل کا پیار نہیں چھپایا۔
10
नाम उस का लिया इधर-ऊधर उड़ गया रंग ही मिरे रू का
نام اس کا لیا ادھر اودھر اڑ گیا رنگ ہی مرے رو کا
اس کا نام کہیں اور لے لیا گیا، اور میرا رنگ ہی اڑ گیا۔
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.