غزل

कसरत-ए-दाग़ से दिल रश्क-ए-गुलिस्ताँ न हुआ

कसरत-ए-दाग़ से दिल रश्क-ए-गुलिस्ताँ न हुआ
میر تقی میر· Ghazal· 8 shers

اس غزل میں شاعر کہتا ہے کہ داغ کی کثرت سے دل میں باغ کی حسد نہیں ہوئی، اور اس نے اپنے دل میں جو کچھ چاہا، وہ کبھی پورا نہ ہوا۔ شاعر کہتا ہے کہ اس نے محبوب پر کئی قربانیاں دی، لیکن وہ ذرہ برابر بھی پشیمان نہ ہوا۔ وہ یہ بھی کہتا ہے کہ اس کی آہ سے دوزخ کی دولت نہیں ہوئی، اور اس کے آنسو سے طوفان کا مزہ نہیں ہوا۔ آخر میں، وہ کہتا ہے کہ زمانے کی توجہ سے اسے کوئی جاہ و حشمت یا مال و دولت نہیں ملی۔

نغمہ سنیں

شعر بہ شعر معنی

رسم الخط
1
कसरत-ए-दाग़ से दिल रश्क-ए-गुलिस्ताँ न हुआ मेरा दिल ख़्वाह जो कुछ था वो कभू याँ न हुआ
کثرت داغ سے دل رشک گلستاں نہ ہوا میرا دل خواہ جو کچھ تھا وہ کبھو یاں نہ ہوا
کثرتِ داغ سے دل رشکِ گلستان نہ ہوا / میرا دل خواہ جو کچھ تھا وہ کبھی یاں نہ ہوا
2
जी तो ऐसे कई सदक़े किए तुझ पर लेकिन हैफ़ ये है कि तनिक तू भी पशेमाँ न हुआ
جی تو ایسے کئی صدقے کیے تجھ پر لیکن حیف یہ ہے کہ تنک تو بھی پشیماں نہ ہوا
مطلب: میں نے تمہارے لیے بہت سے قربانیاں دی، مگر افسوس ہے کہ تم بھی تھوڑا سا پشیمان نہ ہوئے۔
3
आह में कब की कि सर्माया-ए-दोज़ख़ न हुई कौन सा अश्क मिरा मम्बा-ए-तूफ़ाँ न हुआ
آہ میں کب کی کہ سرمایۂ دوزخ نہ ہوئی کون سا اشک مرا منبع طوفاں نہ ہوا
آہ میں کب کی کہ نَک دوزخ کی سجاوٹ نہ ہوئی، کون سا اشک میرا مَمباِ طوفاں نہ ہوا।
4
गो तवज्जोह से ज़माने की जहाँ में मुझ को जाह-ओ-सर्वत का मयस्सर सर-ओ-सामाँ न हुआ
گو توجہ سے زمانے کی جہاں میں مجھ کو جاہ و ثروت کا میسر سر و ساماں نہ ہوا
اے توجہ، مجھے زمانے کی دنیا میں جینے کی تو عنایت دے، مگر مجھے جاہ و سرت یا مال و دولت کا کوئی ذریعہ نصیب نہیں ہوا۔
5
शुक्र-सद-शुक्र कि मैं ज़िल्लत-ओ-ख़्वारी के सबब किसी उन्वान में हम-चश्म-ए-अज़ीज़ाँ न हुआ
شکر صد شکر کہ میں ذلت و خواری کے سبب کسی عنوان میں ہم چشم عزیزاں نہ ہوا
شکر کی چمک کی وجہ سے، میں ذلت و خواری کی وجہ سے، کسی عنوان میں ہم چشمِ عزیزان نہیں ہو سکا۔
6
बर्क़ मत ख़ोशे की और अपनी बयाँ कर सोहबत शुक्र कर ये कि मिरा वाँ दिल-ए-सोज़ाँ न हुआ
برق مت خوشے کی اور اپنی بیاں کر صحبت شکر کر یہ کہ مرا واں دل سوزاں نہ ہوا
دوسروں کی خوشی کے بارے میں بات نہ کرو، بلکہ اپنی صحبت بیان کرو؛ شکر کر کہ میرا جلتا ہوا دل نہیں ہوا۔
7
दिल-ए-बे-रहम गया शैख़ लिए ज़ेर-ए-ज़मीं मर गया पर ये कुहन गब्र-मुसलमाँ न हुआ
دل‌ بے رحم گیا شیخ لیے زیر زمیں مر گیا پر یہ کہن گبر مسلماں نہ ہوا
بے رحم دل نے شیخ کو زیرِ زمین لٹا دیا। مر گیا، پر یہ کُہن گبر، اے مسلمان، آرام گاہ نہیں بنا۔
8
कौन सी रात ज़माने में गई जिस में 'मीर' सीना-ए-चाक से मैं दस्त-ओ-गरेबाँ न हुआ
کون سی رات زمانے میں گئی جس میں میرؔ سینۂ چاک سے میں دست و گریباں نہ ہوا
کون سی رات زمانے میں گئی جس میں 'میر' صینہِ چاک سے دست و گرباں نہ ہوا।
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.