غزل
आगे जमाल-ए-यार के मा'ज़ूर हो गया
आगे जमाल-ए-यार के मा'ज़ूर हो गया
یہ غزل محبوب کے جمال کے سبب مَعذور یا نظرانداز ہو جانے کے احساس کو بیان کرتی ہے۔ اس میں زندگی کی مایوسی اور محبت میں جدائی کے گہرے زخموں کا درد عکاسی کیا گیا ہے۔ یہ فراق اور جدائی کے دکھ کے ذریعے ایک اندرونی جذباتی ہلچل کو ظاہر کرتی ہے۔
نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
1
आगे जमाल-ए-यार के मा'ज़ूर हो गया
गुल इक चमन में दीदा-ए-बेनूर हो गया
اگے جمالِ یار کے معذّر ہو گیا
گل اک چمن میں دیدہِ بنور ہو گیا
(یعنی، محبوب کے حسن کا بہانہ/عذرہ ختم ہو گیا ہے، اور اب باغ میں پھول آنکھوں کا نظارہ بن گیا ہے۔)
2
इक चश्म-ए-मुंतज़र है कि देखे है कब से राह
जों ज़ख़्म तेरी दूरी में नासूर हो गया
ایک چشمۂ منتظر ہے کہ دیکھے ہے کب سے راہ، / جون زخم تیری دوری میں ناسور ہو گیا۔
3
क़िस्मत तो देख शैख़ को जब लहर आई तब
दरवाज़ा शीरा ख़ाने का मा'मूर हो गया
قسمت تو دیکھ شیخ کو جب لہر آئی تب، دروازہ شیرا خانے کا معمر ہو گیا۔ (مطلب یہ ہے کہ جب شیخ کو مشکل کا سامنا ہوا، تو اسے شیرا خانے کے دروازے کا نگہبان بنا دیا گیا۔)
4
पहुँचा क़रीब मर्ग के वो सैद-ए-ना-क़ुबूल
जो तेरी सैद-ए-गाह से टक दूर हो गया
پہنچا قریب مर्ग کے وہ سید-اے-نا-قبول، جو تیری سید-اے-گاہ سے ٹک دور ہو گیا۔
5
देखा ये नाव-नोश कि नीश-ए-फ़िराक़ से
सीना तमाम ख़ाना-ए-ज़ंबूर हो गया
دیکھا یہ ناو نش، کہ نشے فراق سے، سینہ تمام خانۂ زبور ہو گیا
6
इस माह-ए-चारदह का छपे इश्क़ क्यूँके आह
अब तो तमाम शहर में मशहूर हो गया
اس چودہویں مہینے میں، یہ عشق کیوں اتنا دکھائی دے رہا ہے؟ اب تو یہ پورے شہر میں مشہور ہو گیا ہے۔
7
शायद कसो के दिल को लगी उस गली में चोट
मेरी बग़ल में शीशा-ए-दिल चूर हो गया
شاید کسی کے دل کو لگی اس گلی میں چوٹ، میری بغل میں شیشۂ دل چور ہو گیا۔
8
लाशा मिरा तसल्ली न ज़ेर-ए-ज़मीं हुआ
जब तक न आन कर वो सर-ए-गोर हो गया
میرا تسلی زیرِ زمین نہیں ہوا، جب تک کہ وہ سرِ گوڑ ہو گیا۔
9
देखा जो मैं ने यार तो वो 'मीर' ही नहीं
तेरे ग़म-ए-फ़िराक़ में रंजूर हो गया
جو میں نے یار کو دیکھا وہ 'میر' نہیں تھا؛ / تیرے غمِ فراق میں رنجور ہو گیا
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
