Sukhan AI
लाशा मिरा तसल्ली न ज़ेर-ए-ज़मीं हुआ
जब तक न आन कर वो सर-ए-गोर हो गया

My solace did not come from beneath the earth, Until that moment when she appeared, head held high.

میر تقی میر
معنی

میرا تسلی زیرِ زمین نہیں ہوا، جب تک کہ وہ سرِ گوڑ ہو گیا۔

تشریح

یہ شعر ایک گہرے انتظار اور مکمل سکون کی بات کرتا ہے۔ شاعر فرماتے ہیں کہ دل کو تسلی صرف اس وقت ملی، جب محبوب کا وقت آیا، اور اس کے بالوں میں چاندی آ گئی۔ یہ انتظار کی تکمیل کا اظہار ہے۔

آڈیو

تلاوت
ہندی معنیIn app
انگریزی معنیIn app
ہندی تشریحIn app
انگریزی تشریحIn app