غزل

पैग़ाम-ए-ग़म जिगर का गुलज़ार तक न पहुँचा

पैग़ाम-ए-ग़म जिगर का गुलज़ार तक न पहुँचा
میر تقی میر· Ghazal· 9 shers

یہ غزل ایک گہرے جذباتی درد اور مایوسی کا اظہار ہے، جس میں شاعر کا غم کا پیغام (Paigham-e-Gham) اس کے دل کے باغ (Gulzaar) تک نہیں پہنچ پاتا۔ یہ شکایت اور غم کے احساس کو بیان کرتی ہے، کہ شدید ترین جذبات بھی اپنی منزل تک نہیں پہنچ پاتے۔

نغمہ سنیں

شعر بہ شعر معنی

رسم الخط
1
पैग़ाम-ए-ग़म जिगर का गुलज़ार तक न पहुँचा नाला मिरा चमन की दीवार तक न पहुँचा
پیغام غم جگر کا گلزار تک نہ پہنچا نالہ مرا چمن کی دیوار تک نہ پہنچا
شاعر کہہ رہے ہیں کہ غم کا پیغام نہ دل کے گلشن تک پہنچا اور نہ میرا نالہ چمن کی دیوار تک پہنچا۔
2
उस आइने के मानिंद ज़ंगार जिस को खावे काम अपना उस के ग़म में दीदार तक न पहुँचा
اس آئنے کے مانند زنگار جس کو کھاوے کام اپنا اس کے غم میں دیدار تک نہ پہنچا
اس آئینے کے مانند زنگار جس کو کھا لے، کام اپنا اس کے غم میں دیدار تک نہ پہنچا۔
3
जूँ नक़्श-ए-पा है ग़ुर्बत हैरान-कार उस की आवारा हो वतन से जो यार तक न पहुँचा
جوں نقش پا ہے غربت حیران کار اس کی آوارہ ہو وطن سے جو یار تک نہ پہنچا
جون نقشِ پا ہے غربت حیران کار اُس کی، آوارہ ہو وطن سے جو یار تک نہ پہنچا۔ (مطلب: جدائی کے نشان حیران کن ہیں؛ وہ بے گھر کیسے ہو جو نہ وطن تک پہنچا اور نہ ہی محبوب تک۔)
4
लबरेज़-ए-शिकवा थे हम लेकिन हुज़ूर तेरे कार-ए-शिकायत अपना गुफ़्तार तक न पहुँचा
لبریز شکوہ تھے ہم لیکن حضور تیرے کار شکایت اپنا گفتار تک نہ پہنچا
ہم تو بس شکایتیں سرگوشیوں سے کرتے تھے، مگر اے میرے پروردگار، آپ نے اپنی شکایتیں تو ہمارے ہونٹوں تک پہنچنے بھی نہیں دی
5
ले चश्म-ए-नम-रसीदा पानी चुवाने कोई वक़्त-ए-अख़ीर उस के बीमार तक न पहुँचा
لے چشم نم رسیدہ پانی چوانے کوئی وقت اخیر اس کے بیمار تک نہ پہنچا
آنسوؤں کے نم آئینے سے پانی پینے کوئی آیا، مگر آخری وقت میں اس بیمار تک کبھی پہنچا نہیں۔
6
ये बख़्त-ए-सब्ज़ देखो बाग़-ए-ज़माना में से पज़मुर्दा गुल भी अपनी दस्तार तक न पहुँचा
یہ بخت سبز دیکھو باغ زمانہ میں سے پژمردہ گل بھی اپنی دستار تک نہ پہنچا
یہ بختِ سبز دیکھو، باغِ زمانہ میں سے، پسمردہ گل بھی اپنی دستانہ تک نہ پہنچا।
7
मस्तूरी ख़ूब-रूई दोनों न जम' होवें ख़ूबी का काम किस की इज़हार तक न पहुँचा
مستوری خوبروئی دونوں نہ جمع ہوویں خوبی کا کام کس کی اظہار تک نہ پہنچا
مستوری اور خوب رُوئی دونوں کا ایک ساتھ نہ جمنا چاہیے، اور کسی بھی کام کی خوبصورتی تب تک ظاہر نہیں ہو سکتی جب تک وہ اپنی حد تک نہ پہنچ جائے۔
8
यूसुफ़ से ले के ता-गुल फिर गुल से ले के ता-शम्मा ये हुस्न किस को ले कर बाज़ार तक न पहुँचा
یوسف سے لے کے تا گل پھر گل سے لے کے تا‌ شمع یہ حسن کس کو لے کر بازار تک نہ پہنچا
یوسف سے لے کے تا-گل پھر گل سے لے کے تا-شمہ، یہ حُسن کس کو لے کر بازار تک نہ پہنچا। اس کا سادہ معنی ہے کہ جیسے یوسف سے باغ لیا اور پھر باغ سے پھول لیا، یہ حسن کس کو بازار تک نہیں لے جا سکتا۔
9
अफ़्सोस 'मीर' वे जो होने शहीद आए फिर काम उन का उस की तलवार तक न पहुँचा
افسوس میرؔ وے جو ہونے شہید آئے پھر کام ان کا اس کی تلوار تک نہ پہنچا
افسوس، میر! وہ جو شہید ہونے آئے، ان کے کام ان کی تلوار تک نہ پہنچے۔
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.