یوسف سے لے کے تا گل پھر گل سے لے کے تا‌ شمع — میر تقی میر

یوسف سے لے کے تا گل پھر گل سے لے کے تا‌ شمع یہ حسن کس کو لے کر بازار تک نہ پہنچا

“From Yusuf, taking the garden, then from the garden, taking the bloom, Which beauty, O beauty, cannot be brought to the market?”

— میر تقی میر

معنی

یوسف سے لے کے تا-گل پھر گل سے لے کے تا-شمہ، یہ حُسن کس کو لے کر بازار تک نہ پہنچا। اس کا سادہ معنی ہے کہ جیسے یوسف سے باغ لیا اور پھر باغ سے پھول لیا، یہ حسن کس کو بازار تک نہیں لے جا سکتا۔

تشریح

یہ شعر حسن کی بے پایاں اور ناقابلِ تصور کیفیت کو بیان کرتا ہے۔ شاعر پوچھتے ہیں کہ یہ حسن اتنا شدید ہے کہ اسے بازار تک کیسے پہنچایا جائے گا، کیونکہ یہ کسی بھی عام چیز سے نہیں سجا ہوا، بلکہ ایک અલૌک نکھار ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوت
ہندی معنی
انگریزی معنی
ہندی تشریح
انگریزی تشریح
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.