غزل

कब तक तू इम्तिहाँ में मुझ से जुदा रहेगा

कब तक तू इम्तिहाँ में मुझ से जुदा रहेगा
میر تقی میر· Ghazal· 9 shers

یہ غزل جدائی اور محبت کے گہرے درد کو بیان کرتی ہے، جس میں شاعر اپنے محبوب سے سوال کرتا ہے کہ یہ آزمائش میں وہ مجھ سے کب تک دور رہے گا۔ یہ محبت میں اٹوٹ وابستگی اور جدائی کے غم کو ظاہر کرتی ہے، جس میں زندگی کے لطف اور ساتھ کے احساس کو کھو دینے کی فکر ہے۔

نغمہ سنیں

شعر بہ شعر معنی

رسم الخط
1
कब तक तू इम्तिहाँ में मुझ से जुदा रहेगा जीता हूँ तो तुझी में ये दिल लगा रहेगा
کب تک تو امتحاں میں مجھ سے جدا رہے گا جیتا ہوں تو تجھی میں یہ دل لگا رہے گا
شاعر پوچھتا ہے کہ وہ کب تک امتحان میں مجھ سے جدا رہے گا، کیونکہ جب تک میں زندہ ہوں، میرا دل ہمیشہ اسی میں لگا رہے گا۔
2
याँ हिज्र और हम में बिगड़ी है कब की सोहबत ज़ख़्म-ए-दिल-ओ-नमक में कब तक मज़ा रहेगा
یاں ہجر اور ہم میں بگڑی ہے کب کی صحبت زخم دل و نمک میں کب تک مزہ رہے گا
याद है कि हमारा साथ बिछड़ने के कारण इतना बिगड़ गया? دل کے زخم اور نمک کے آنسوؤں میں اب اور کب تک مزہ رہے گا؟
3
तू बरसों में मिले है याँ फ़िक्र ये रहे है जी जाएगा हमारा इक-दम को या रहेगा
تو برسوں میں ملے ہے یاں فکر یہ رہے ہے جی جائے گا ہمارا اک دم کو یا رہے گا
تُو برسوں میں ملے ہے یاں فکر یہ ہے کہ جی جائے گا ہمارا اِک دم کو یا رہے گا؟
4
मेरे न होने का तो है इज़्तिराब यूँ ही आया है जी लबों पर अब क्या है जा रहेगा
میرے نہ ہونے کا تو ہے اضطراب یوں ہی آیا ہے جی لبوں پر اب کیا ہے جا رہے گا
میرے نہ ہونے کا تو ہے بس ایک بے چینی، اور جو بات لبوں پر آ گئی ہے، وہ اب کیا رہے گی؟
5
ग़ाफ़िल न रहियो हरगिज़ नादान दाग़-ए-दिल से भड़केगा जब ये शो'ला तब घर जला रहेगा
غافل نہ رہیو ہرگز نادان داغ دل سے بھڑکے گا جب یہ شعلہ تب گھر جلا رہے گا
اے ناداں، دل کے داغ سے کبھی غافل نہ رہنا، ورنہ جب یہ شعلہ بھڑکے گا تو پورا گھر جل جائے گا۔
6
मरने पे अपने मत जा सालिक तलब में उस की गो सर को खो रहेगा पर उस को पा रहेगा
مرنے پہ اپنے مت جا سالک طلب میں اس کی گو سر کو کھو رہے گا پر اس کو پا رہے گا
شاعر کہتا ہے کہ مرنے پہ اپنے मत جا سالک طلب میں اُس کی، گو سر کو کھو رہے گا پر اُس کو پا رہے گا۔
7
उम्र-ए-अज़ीज़ सारी दिल ही के ग़म में गुज़री बीमार आशिक़ी ये किस दिन भला रहेगा
عمر عزیز ساری دل ہی کے غم میں گزری بیمار عاشقی یہ کس دن بھلا رہے گا
میری عزیز عمر ساری دل ہی کے غم میں گزری، یہ بیمار عاشقی کس دن بھلا رہے گا؟
8
दीदार का तो वा'दा महशर में देख कर कर बीमार ग़म में तेरे तब तक तो क्या रहेगा
دیدار کا تو وعدہ محشر میں دیکھ کر کر بیمار غم میں تیرے تب تک تو کیا رہے گا
دیدار کا تو وعدہ محشر میں دیکھ کر کر، بیمار غم میں تیرے تب تک تو کیا رہے گا۔
9
क्या है जो उठ गया है पर बस्ता-ए-वफ़ा है क़ैद-ए-हयात में है तू 'मीर' आ रहेगा
کیا ہے جو اٹھ گیا ہے پر بستۂ وفا ہے قید حیات میں ہے تو میرؔ آ رہے گا
کیا ہے جو اٹھ گیا ہے پر بستۂ وفا ہے، قیدِ حیات میں ہے تو 'میر' آ رہے گا
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.