میرے نہ ہونے کا تو ہے اضطراب یوں ہی — میر تقی میر

میرے نہ ہونے کا تو ہے اضطراب یوں ہی آیا ہے جی لبوں پر اب کیا ہے جا رہے گا

“The absence of me, oh, it is merely a restlessness, What has come to my lips, now, what will remain?”

— میر تقی میر

معنی

میرے نہ ہونے کا تو ہے بس ایک بے چینی، اور جو بات لبوں پر آ گئی ہے، وہ اب کیا رہے گی؟

تشریح

یہ شعر وجودی اضطراب (existential anxiety) کا اظہار ہے۔ شاعر کو اپنی غیر موجودگی کا جو بے چین احساس ستا رہا ہے، وہ اس لمحے لبوں پر آ گیا ہے۔ یہ ایک سوال ہے کہ کیا یہ احساس، جو اب زبان پر آ چکا ہے، ہمیشہ قائم رہے گا؟

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوت
ہندی معنی
انگریزی معنی
ہندی تشریح
انگریزی تشریح
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.