عمر عزیز ساری دل ہی کے غم میں گزری — میر تقی میر
“All my life spent in sorrow for my beloved, When will this sick love ever come to rest?”
معنی
میری عزیز عمر ساری دل ہی کے غم میں گزری، یہ بیمار عاشقی کس دن بھلا رہے گا؟
تشریح
Mir Taqi Mir اس شعر میں اپنی جذباتی تھکن کا اظہار کر رہے ہیں۔ وہ افسوس کرتے ہیں کہ ان کی پوری عمر (عمر-ए-عزیز) محبوب کے غم میں گزر گئی۔ اس دکھ کو ایک 'بیمار آشیقی' قرار دینا، اسے ایک دائمی بیماری کا درجہ دیتا ہے۔ شاعر کا سوال اس مسلسل درد کے خاتمے کی شدید خواہش کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ مصرعہ عشق کے اس بے پناہ، کبھی نہ ختم ہونے والے کرب کو بیان کرتا ہے جو زندگی کا حصہ بن چکا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
