Sukhan AI
غزل

जब जुनूँ से हमें तवस्सुल था

जब जुनूँ से हमें तवस्सुल था
میر تقی میر· Ghazal· 9 shers

یہ غزل اس وقت کے بارے میں ہے جب ہمیں جنون کے ذریعے کوئی وسیلہ یا سہارا ملا تھا۔ شاعر کہتے ہیں کہ جب تک ہمارے پاس جنون تھا، تب تک ہمیں اپنی زنجیروں کی کوئی فکر نہیں تھی۔ یہ بتاتا ہے کہ وفاداری اور اعتماد کی جذبات کس طرح زندگی کے سب سے خوبصورت اور سب سے تکلیف دہ تجربات کا باعث بن سکتے ہیں۔

نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
1
जब जुनूँ से हमें तवस्सुल था अपनी ज़ंजीर-ए-पा ही का ग़ुल था
جب جنون سے ہمیں توسل تھا، تو وہ ہماری اپنی زنجیر کے ہی گُل تھا۔
3
यक निगह को वफ़ा न की गोया मौसम-ए-गुल सफ़ीर-ए-बुलबुल था
جیسے میں نے اپنی آنکھوں سے وفا نہیں کی، میں بہارِ گل اور سفیرِ بلبل تھا۔
4
उन ने पहचान कर हमें मारा मुँह न करना इधर तजाहुल था
اُنہوں نے پہچان کر ہمیں مارا؛ منہ نہ کرنا ادھر تجہول تھا۔
5
शहर में जो नज़र पड़ा उस का कुश्ता-ए-नाज़ या तग़ाफ़ुल था
شہر میں جو نظر پڑا اس کا، یا ناز کا لباس تھا یا بے پرواہی۔
6
अब तो दिल को न ताब है न क़रार याद-ए-अय्याम जब तहम्मुल था
اب تو دل کو نہ طاب ہے نہ قرار، یادِ ایام جب تحمل تھا ۔ اس کا مطلب ہے کہ اب دل میں نہ ہمت ہے اور نہ سکون، جبکہ پہلے گزرے دنوں کو سہنا ممکن تھا۔
7
जा फँसा दाम-ए-ज़ुल्फ़ में आख़िर दिल निहायत ही बे-ताम्मुल था
لغوی طور پر، اس شعر کا مطلب ہے کہ آخرکار، میں آپ کے زُلفوں کے جال میں پھنس گیا، اور میرا دل مکمل طور پر بے پروا ہو گیا۔
8
यूँ गई क़द के ख़म हुए जैसे उम्र इक रहरव सर-ए-पुल था
جیسے قد کی خامیوں کا دور ہونا، ایک نٹ کھٹ دھارے کے پل کے اوپر سے بہنے جیسا۔
9
ख़ूब दरयाफ़्त जो किया हम ने वक़्त-ए-ख़ुश 'मीर' निकहत-ए-गुल था
میں نے جو بہت کوشش کی، وقتِ خوش، وہ تو گل کی خوشبو کے ساتھ ہونا تھا۔
Comments

Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.

0

No comments yet.

जब जुनूँ से हमें तवस्सुल था | Sukhan AI