Sukhan AI
जा फँसा दाम-ए-ज़ुल्फ़ में आख़िर
दिल निहायत ही बे-ताम्मुल था

In the snare of your tresses, finally, / My heart was utterly heedless.

میر تقی میر
معنی

لغوی طور پر، اس شعر کا مطلب ہے کہ آخرکار، میں آپ کے زُلفوں کے جال میں پھنس گیا، اور میرا دل مکمل طور پر بے پروا ہو گیا۔

تشریح

یہ شعر اس بے باکی کا اعتراف ہے جو محبوب کی زُلفوں کے سحر میں آ کر ہوئی۔ شاعر کہتے ہیں کہ جب میں آخِراً اس دلکش جال میں پھنس گیا.... تو مجھے احساس ہوا کہ میرا دل کتنا بے فکر اور بے پروا تھا۔

آڈیو

تلاوت
ہندی معنیIn app
انگریزی معنیIn app
ہندی تشریحIn app
انگریزی تشریحIn app