जब जुनूँ से हमें तवस्सुल था
अपनी ज़ंजीर-ए-पा ही का ग़ुल था
“When through frenzy we sought the means, It was the thread of our own shackles that gleamed.”
— میر تقی میر
معنی
جب جنون سے ہمیں توسل تھا، تو وہ ہماری اپنی زنجیر کے ہی گُل تھا۔
تشریح
یہ شعر انسانی جدوجہد کی گہری حقیقت کو بیان کرتا ہے۔ میر تقی میر کہتے ہیں کہ جب ہم کسی جنون کے ذریعے کوئی سہارا ڈھونڈتے ہیں، تو ہم کسی بیرونی طاقت سے نہیں لڑ رہے ہوتے۔ بلکہ، ہم تو اپنی ہی بنائی ہوئی زنجیروں کے غلام ہوتے ہیں۔
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
1 / 9Next →
