غزل

दिल के तीं आतिश-ए-हिज्राँ से बचाया न गया

दिल के तीं आतिश-ए-हिज्राँ से बचाया न गया
میر تقی میر· Ghazal· 8 shers

یہ غزل ہجر کی آتشیار سے دل کو بچانے کی ناممکنیت پر مبنی ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ دل کو فراق کی لہروں سے نہیں بچایا جا سکا، نہ گھر کو جلنے سے، اور نہ ہی دل میں کوئی مستقل ٹھکانہ بنایا جا سکا۔ یہ عشق کی گہرائی اور مقدر کے سامنے عاشق کی بے بسی کو بیان کرتی ہے۔

نغمہ سنیں

شعر بہ شعر معنی

رسم الخط
1
दिल के तीं आतिश-ए-हिज्राँ से बचाया न गया घर जला सामने पर हम से बुझाया न गया
دل کے تیں آتش ہجراں سے بچایا نہ گیا گھر جلا سامنے پر ہم سے بجھایا نہ گیا
دل کو فراق کی آگ سے بچایا نہیں جا سکا، مگر سامنے گھر کے جلنے پر بھی دل سے بجھا نہیں جا سکا۔
2
दिल में रह-ए-दिल में कि मे'मार-ए-क़ज़ा से अब तक ऐसा मतबू-ए-मकाँ कोई बनाया न गया
دل میں رہ دل میں کہ معمار قضا سے اب تک ایسا مطبوع مکاں کوئی بنایا نہ گیا
دل میں رہِ دل میں کہ معمارِ قज़ा سے اب تک، ایسا کوئی متبوعِ مکان کوئی بنایا نہ گیا۔
3
कभू आशिक़ का तिरे जबहे से नाख़ुन का ख़राश ख़त-ए-तक़्दीर के मानिंद मिटाया न गया
کبھو عاشق کا ترے جبہے سے ناخن کا خراش خط تقدیر کے مانند مٹایا نہ گیا
کبھی عاشق کا تیرے جبھے سے ناخن کا خراش، خطِ تقدیر کے مانند مٹایا نہ جا گیا۔
4
क्या तुनुक-हौसला थे दीदा-ओ-दिल अपने आह एक दम राज़-ए-मोहब्बत का छुपाया न गया
کیا تنک حوصلہ تھے دیدہ و دل اپنے آہ ایک دم راز محبت کا چھپایا نہ گیا
کتنی ہمت تھی کہ آنکھوں اور دل نے اپنی آہ سے، محبت کا راز ایک لمحے کے لیے بھی چھپایا نہ جا سکا۔
5
दिल जो दीदार का क़ातिल के बहुत भूका था उस सितम-कुश्ता से इक ज़ख़्म भी खाया न गया
دل جو دیدار کا قاتل کے بہت بھوکا تھا اس ستم کشتہ سے اک زخم بھی کھایا نہ گیا
اگرچہ دل دیدار کا قاتل سے بہت بھوکا تھا، اس ستم کرنے والے سے ایک زخم بھی نہ کھایا گیا۔
6
मैं तो था सैद-ए-ज़बूँ सैद-गह-ए-इश्क़ के बीच आप को ख़ाक में भी ख़ूब मिलाया न गया
میں تو تھا صید زبوں صید گہ عشق کے بیچ آپ کو خاک میں بھی خوب ملایا نہ گیا
میں تو تھا سیدِ زباں سیدِ گہِ عشق کے بیچ، آپ کو خاک میں بھی خوب ملایا نہ گیا
7
शहर-ए-दिल-ए-आह अजब जाए थी पर उस के गए ऐसा उजड़ा कि किसी तरह बसाया न गया
شہر دل آہ عجب جائے تھی پر اس کے گئے ایسا اجڑا کہ کسی طرح بسایا نہ گیا
دل کا شہر ایک عجیب سفر تھا، مگر اس کے چلے جانے سے یہ اتنا بکھر گیا کہ اسے کسی طرح آباد نہیں کیا جا سکا۔
8
आज रुकती नहीं ख़ामे की ज़बाँ रखिए मुआ'फ़ हर्फ़ का तूल भी जो मुझ से घटाया न गया
آج رکتی نہیں خامے کی زباں رکھیے معاف حرف کا طول بھی جو مجھ سے گھٹایا نہ گیا
آج الزام کی زبان نہیں رُکتی؛ معاف کرنا، کیونکہ ایک حرف کا وزن بھی مجھ سے کم نہیں کیا جا سکا۔
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.