غزل
हँसते हो रोते देख कर ग़म से
हँसते हो रोते देख कर ग़म से
یہ غزل زندگی کے تضادات اور جذباتی کشمکش کو بیان کرتی ہے۔ شاعر مخاطب کو کہتے ہیں کہ آپ ہنستے بھی ہیں اور روتے بھی ہیں، جو ایک گہرے غم سے جنم لیتا ہے۔ یہ زندگی کی پیچیدہ اور پراسرار فطرت پر غور کرتی ہے۔
نغمہ سنیں
1
हँसते हो रोते देख कर ग़म से
छेड़ रखी है तुम ने क्या हम से
ہنستے ہو روتے دیکھ کر غم سے
چھیڑ رکھی ہے تم نے کیا ہم سے
ہنستے ہو روتے دیکھ کر غم سے، کیا کر رکھا ہے تم نے ہم سے۔
2
मुँद गई आँख है अँधेरा पाक
रौशनी है सो याँ मिरे दम से
مند گئی آنکھ ہے اندھیرا پاک
روشنی ہے سو یاں مرے دم سے
بند آنکھ اندھیرا پاک ہے، روشنی یا تو تم سے ہے یا میرے دم سے۔
3
तुम जो दिल-ख़्वाह ख़ल्क़ हो हम को
दुश्मनी है तमाम आलम से
تم جو دل خواہ خلق ہو ہم کو
دشمنی ہے تمام عالم سے
تم جو دلِ خواہ خَلق ہو ہم کو، دشمنی ہے تمام عالم سے۔
4
दरहमी आ गई मिज़ाजों में
आख़िर उन गेसूवान-ए-दिरहम से
درہمی آ گئی مزاجوں میں
آخر ان گیسوان درہم سے
درہمی آ گئی مزاجوں میں، آخر اُن گیسوانِ درہم سے۔ اس کا سادہ معنی ہے کہ مزاج میں پیسوں کی چمک آ گئی ہے، اُن درہم کے بالوں سے۔
5
सब ने जाना कहीं ये आशिक़ है
बह गए अश्क दीदा-ए-नम से
سب نے جانا کہیں یہ عاشق ہے
بہہ گئے اشک دیدۂ نم سے
سب نے جانا کہ یہ عاشقِ دل ہے، بہ گئے اشک دیدۂ نم سے۔
6
मुफ़्त यूँ हाथ से न खो हम को
कहीं पैदा भी होते हैं हम से
مفت یوں ہاتھ سے نہ کھو ہم کو
کہیں پیدا بھی ہوتے ہیں ہم سے
مفت یوں ہاتھ سے نہ کھو ہمیں، کہیں پیدا بھی ہوتے ہیں ہم سے۔ (مطلب: ہمیں اتنی آسانی سے مت کھو دینا، کیونکہ ہم سے زندگی کا وجود ہوتا ہے۔)
7
अक्सर आलात-ए-जौर उस से हुए
आफ़तें आईं उस के मुक़द्दम से
اکثر آلات جور اس سے ہوئے
آفتیں آئیں اس کے مقدم سے
اَکسر آلاتِ جَور اُس سے ہوئے، آفتیں آئیں اُس کے مُقدّم سے۔
8
देख वे पलकें बर्छियाँ चलियाँ
तेग़ निकली उस अबरू-ए-ख़म से
دیکھ وے پلکیں برچھیاں چلیاں
تیغ نکلی اس ابروئے خم سے
دیکھ وہ پلکیں برچھیاں چلیاں، تیغ نکلی اُس ابروئے خمر سے۔
9
कोई बेगाना गर नहीं मौजूद
मुँह छुपाना ये क्या है फिर हम से
کوئی بیگانہ گر نہیں موجود
منہ چھپانا یہ کیا ہے پھر ہم سے
اگر کوئی بیگانہ موجود نہیں ہے، تو یہ مجھ سے چہرہ چھپانا کیا ہے؟
10
वज्ह पर्दे की पोछिए बारे
मलिए उस के कसो जो महरम से
وجہ پردے کی پوچھیے بارے
ملیے اس کے کسو جو محرم سے
شاعر کہتا ہے کہ اے محبوب، پردے کا پردہ اٹھا، اور بتا کہ رازدار سے جدا ہونا کیسے ممکن ہے۔
11
दरपय ख़ून 'मीर' ही न रहो
हो भी जाता है जुर्म आदम से
درپئے خون میرؔ ہی نہ رہو
ہو بھی جاتا ہے جرم آدم سے
درپے خون، ’میر‘، تم ایسے نہیں رہ سکتے، کیونکہ آدم سے بھی گناہ ہو جاتا ہے۔
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
