Sukhan AI
غزل

सीना है चाक-ए-जिगर पारा है दिल सब ख़ूँ है

सीना है चाक-ए-जिगर पारा है दिल सब ख़ूँ है
میر تقی میر· Ghazal· 9 shers

یہ غزل ایک گہرے جذباتی اور درد بھرے عشق کی عکاسی ہے، جس میں جدائی اور کرب کا احساس نمایاں ہے۔ شاعر اپنے دل کو ایک ایسی جگہ قرار دیتا ہے جہاں زندگی کا ہر ذرہ محبت کے خون سے بھرا ہے۔ یہ نظم عاشق کی بے بسی، اس کے ٹوٹے دل کے دکھ، اور عشق کی سخت رسموں پر ہونے والی اذیت کو بیان کرتی ہے۔

نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
1
सीना है चाक-ए-जिगर पारा है दिल सब ख़ूँ है तिस पे ये जान-ब-लब आमदा भी महज़ूँ है
میرا سینہ زندگی کا چکر ہے، میرا دل خالص جوہر ہے، اور میری روح مکمل خون ہے؛ اس پر، یہ جان و لب، اگرچہ آئے بھی، محض ایک عام چیز ہے۔
2
उस से आँखों को मिला जी में रहे क्यूँकर ताब चश्म-ए-ए'जाज़-ए-मिज़ा सहर-ए-निगह-ए-अफ़्सूँ है
اس سے، جن کی آنکھوں میں دیکھ کر دل سحر ہو جائے، دل میں اور کیا شوق باقی ہے؟ ان کی عجیب و غریب اداوں کی نظر، ایک جادوئی صبح کے مانند ہے۔
3
आह ये रस्म-ए-वफ़ा होवे बर-उफ्ताद कहीं इस सितम पर भी मिरा दिल उसी का ममनूँ है
آہ! یہ رسمِ وفا ہوے بر اُفتاڈ کہیں، اس ستم پر بھی میرا دل اسی کا ممنون ہے۔
4
कभू इस दश्त से उठता है जो एक अब्र तनिक गर्द-ए-नमनाक परेशाँ शुदा-ए-मजनूँ है
کبھی اس دشت سے اٹھتا ہے جو ایک عبر تنیک، گردِ نمناک سے پریشان شدأ مجنون ہے۔
5
क्यूँके बे-बादा लब-ए-जू पे चमन में रहिए अक्स-ए-गुल आब में तकलीफ़-ए-मय-ए-गुल-गूँ है
کیونکہ بے بادا لبِ جو پہ چمن میں رہیے۔ اَکسِ-اِ-گُل آب میں تکلیفِ مے-اِ-گُل-گُو ہے۔
6
पार भी हो कलेजे के तो फिर क्या बुलबुल मिस्रा-नाला जिगर-कावी है गो मौज़ूँ है
اگر دل کا پار نہیں ہوتا تو پھر بلبل کیا ہے؟ جگر کا نالہ شاعر ہے، گو موژوں ہے۔
7
शहर कितना जो कोई उन में सरिश्क-ए-अफ़्शाँ हो रू-कश-ए-गिर्या-ए-ग़म हौसला-ए-हामूँ है
شہر کتنا جو کوئی ان میں سرِشکِ اَفشان ہو، روکشِ گریہِ غم حوصلہِ ہاموں ہے۔ (یعنی، شہر کی خوبصورتی یا اہمیت तब तक अधूरी है, जब तक उसमें कोई سچے اور پاک دل انسان न आ जाए। اور تمہارا غم کے آنسوؤں سے گہرا یہ چہرہ میرے حوصلے کی بنیاد ہے۔)
8
ख़ून हर यक रक़म शौक़ से टपके था वले वो समझा कि मिरे नामे का क्या मज़मूँ है
ہر ایک قطرہ خون شوق سے ٹپکا تھا، اے ولی؛ وہ نہ سمجھا کہ میرے نام میں کیا مضمون ہے۔
9
'मीर' की बात पे हर वक़्त ये झुँझलाया कर सड़ी है ख़ब्ती है वो शेफ़्ता है मजनूँ है
میر کی بات پر ہر وقت اتنا جھنجھلایا نہ کرو؛ وہ عورت سڑی ہے، وہ عورت خبتی ہے اور وہ عورت مجنون ہے۔
Comments

Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.

0

No comments yet.

सीना है चाक-ए-जिगर पारा है दिल सब ख़ूँ है | Sukhan AI