पार भी हो न कलेजे के तो फिर क्या बुलबुल
मिस्रा-नाला जिगर-कावी है गो मौज़ूँ है
“If the crossing of the heart does not happen, what is the nightingale? / The stream of the soul is the poet, the beauty of the mood.”
— میر تقی میر
معنی
اگر دل کا پار نہیں ہوتا تو پھر بلبل کیا ہے؟ جگر کا نالہ شاعر ہے، گو موژوں ہے۔
تشریح
یہ شعر دل کے گہرے درد کی کیفیت کو بیان کرتا ہے۔ शायर कहते ہیں کہ اگر دل میں درد کی شدت برداشت نہیں ہوتی، تو پھر بلبل کا کِیہ گِیت کیا؟ حقیقت یہ ہے کہ جگر کی نالیوں میں بہتا درد ہی تو موسیقی ہے۔
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
