غزل

कहाँ तक ग़ैर जासूसी के लेने को लगा आवे

कहाँ तक ग़ैर जासूसी के लेने को लगा आवे
میر تقی میر· Ghazal· 9 shers

یہ غزل محبت کے دکھ اور بے جا جاسوسی سے ہونے والی بے چینی کو بیان کرتی ہے۔ شاعر کا کہنا ہے کہ یہ مصیبت (بَلا) ہر جگہ چھائی ہوئی ہے، اور عشق کے رنگ میں ہنسی اور آنسو دونوں ایک ساتھ آ رہے ہیں۔

نغمہ سنیں
رسم الخط
1
कहाँ तक ग़ैर जासूसी के लेने को लगा आवे इलाही इस बला-ए-ना-गहाँ पर भी बला आवे
کہاں تک غیر جاسوسی کے لینے کو لگا آوے الٰہی اس بلائے ناگہاں پر بھی بلا آوے
کہاں تک غیر جاسوسی کے لینے کو لگا آوے؟ اے الٰہی! اس بلاۓ نہ گاہ پر بھی بلا آوے۔
2
रुका जाता है जी अंदर ही अंदर आज गर्मी से बला से चाक ही हो जावे सीना टुक हवा आवे
رکا جاتا ہے جی اندر ہی اندر آج گرمی سے بلا سے چاک ہی ہو جاوے سینہ ٹک ہوا آوے
گرمی کی وجہ سے میرا دل بے قرار ہو جاتا ہے، جیسے ہوا کے جھونکے سے میرا سینہ پھٹ جائے گا۔
3
तिरा आना ही अब मरकूज़ है हम को दम-ए-आख़िर ये जी सदक़े किया था फिर न आवे तन में या आवे
ترا آنا ہی اب مرکوز ہے ہم کو دم آخر یہ جی صدقے کیا تھا پھر نہ آوے تن میں یا آوے
تیرا آنا ہی اب ہمارا آخری ٹھکانہ ہے، یہ زندگی بے کار گزری تھی، اور یا تو یہ جسم میں واپس نہیں آئے گی یا آئے گی۔
4
ये रस्म-ए-आमद-ओ-रफ़्त-ए-दयार-ए-इश्क़ ताज़ा है हँसी वो जाए मेरी और रोना यूँ चला आवे
یہ رسم آمد و رفت دیار عشق تازہ ہے ہنسی وہ جائے میری اور رونا یوں چلا آوے
یہ رسمِ آمد و رفتِ دِیاَرِ عشق تازہ ہے؛ ہنسی وہ جائے میری اور رونا یوں چلا آوے۔
5
असीरी ने चमन से मेरी दिल-गर्मी को धो डाला वगर्ना बर्क़ जा कर आशियाँ मेरा जला आवे
اسیری نے چمن سے میری دل گرمی کو دھو ڈالا وگرنہ برق جا کر آشیاں میرا جلا آوے
اسیری نے چمن سے میرے دل کی گرمی دھو ڈالی، ورنہ بجلی چمک کر میرا آشیانہ جلا دے گی۔
6
उमीद-ए-रहम उन से सख़्त ना-फ़हमी है आशिक़ की ये बुत संगीं-दिली अपनी न छोड़ें गर ख़ुदा आवे
امید رحم ان سے سخت نافہمی ہے عاشق کی یہ بت سنگیں دلی اپنی نہ چھوڑیں گر خدا آوے
عاشق کے لیے رحمت کی امید ایک سخت غلط فہمی ہے، اور اگر خدا آئے گا، تو میرا دلِ نذر اپنی یہ بت نہیں چھوڑے گا۔
7
ये फ़न्न-ए-इश्क़ है आवे उसे तीनत में जिस की हो तू ज़ाहिद-ए-पीर-ए-ना-बालिग़ है बे तह तुझ को क्या आवे
یہ فن عشق ہے آوے اسے طینت میں جس کی ہو تو زاہد پیر نابالغ ہے بے تہ تجھ کو کیا آوے
یہ فنِ عشق ہے جو تینت میں آتا ہے، جو کسی کے لیے ہے۔ تم تو زاہدِ پیرِ نا-بالغ ہو، تمہیں کیا آ سکتا ہے۔
8
हमारे दिल में आने से तकल्लुफ़ ग़म को बेजा है ये दौलत-ख़ाना है उस का वो जब चाहे चला आवे
ہمارے دل میں آنے سے تکلف غم کو بے جا ہے یہ دولت خانہ ہے اس کا وہ جب چاہے چلا آوے
ہمارے دل میں آنے سے تکلف غم کو بے جا ہے، یہ دولت خانہ ہے اس کا وہ جب چاہے چلا آوے۔ (مطلب: ہمارے دل میں آ کر غم کو سہنا آسان ہو گیا ہے۔ وہ شخص ایک ایسے خزانے جیسا ہے جو جب چاہے ہمارے پاس آ سکتا ہے۔)
9
ब-रंग‌‌‌‌-ए-बू-ए-ग़ुंचा उम्र इक ही रंग में गुज़रे मयस्सर 'मीर'-साहिब गर दिल बे-मुद्दआ आवे
برنگ بوئے غنچہ عمر اک ہی رنگ میں گزرے میسر میرؔ صاحب گر دل بے مدعا آوے
گل کے عطر کے رنگ میں عمر ایک ہی رنگ میں گزرے؛ میسر میر صاحب اگر دل بے مدعا آوے۔
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.