रुका जाता है जी अंदर ही अंदर आज गर्मी से
बला से चाक ही हो जावे सीना टुक हवा आवे
“My heart feels restless with the heat today, As if my chest would split open with a gust of wind.”
— میر تقی میر
معنی
گرمی کی وجہ سے میرا دل بے قرار ہو جاتا ہے، جیسے ہوا کے جھونکے سے میرا سینہ پھٹ جائے گا۔
تشریح
یہ شعر اندرونی بے چینی اور تڑپ کو بیان کرتا ہے۔ شاعر کو محسوس ہو رہا ہے کہ دل میں جو گرمی ہے، وہ شدید ہے، اور وہ خواہش کرتے ہیں کہ ہوا এসে ان کا سینہ چیر دے تاکہ انہیں تھوڑی راحت ملے۔
